-Advertisement-

ٹرمپ کے دورہ چین سے قبل بیجنگ کا تائیوان کو امریکی اسلحہ فروخت کرنے کی مخالفت کا اعادہ

تازہ ترین

کیوبا مدد کا خواہشمند، امریکا مذاکرات کے لیے تیار: ڈونلڈ ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز انکشاف کیا ہے کہ کیوبا کی جانب سے مدد کی درخواست...
-Advertisement-

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورہ چین سے قبل بیجنگ نے تائیوان کو امریکی اسلحے کی فروخت پر اپنی شدید مخالفت کا اعادہ کیا ہے۔ چینی وزارت خارجہ کے ترجمان گو جیاکون نے بیجنگ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تائیوان کو امریکی اسلحے کی فراہمی پر چین کا موقف مستقل اور واضح ہے اور چین اس کی سختی سے مخالفت کرتا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز کہا تھا کہ وہ بیجنگ میں چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ ملاقات کے دوران تائیوان کو اسلحہ فروخت کرنے کے معاملے پر تبادلہ خیال کریں گے۔ نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق امریکی سینیٹرز کا ایک دو جماعتی گروپ صدر ٹرمپ پر زور دے رہا ہے کہ وہ تائیوان کے لیے چودہ ارب ڈالر کے رکے ہوئے اسلحہ پیکیج کو منظوری دیں جو گزشتہ کئی ماہ سے امریکی محکمہ خارجہ میں التوا کا شکار ہے۔

چینی ترجمان کا کہنا ہے کہ دورہ بیجنگ کے دوران دونوں رہنما پاک چین تعلقات سمیت عالمی امن و ترقی سے متعلق اہم امور پر تفصیلی بات چیت کریں گے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے ہانگ کانگ کے سابق میڈیا ٹائکون جمی لائی کے معاملے کو بھی چینی صدر کے سامنے اٹھانے کا عندیہ دیا ہے جنہیں اس سال کے شروع میں بیس سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

اس حوالے سے چینی ترجمان گو جیاکون نے کہا کہ جمی لائی کے معاملے پر چین کا موقف بالکل واضح ہے۔ انہوں نے اس سوال کو مسترد کر دیا کہ کیا چین جمی لائی کی رہائی پر غور کر رہا ہے۔ ترجمان نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ ہانگ کانگ کے معاملات چین کا اندرونی معاملہ ہیں اور مرکزی حکومت ہانگ کانگ کے عدالتی حکام کی جانب سے قانون کے مطابق فرائض کی انجام دہی کی مکمل حمایت کرتی ہے۔

ایرانی پاسداران انقلاب کو تیل کی فروخت میں مدد کے الزام میں امریکی محکمہ خزانہ کی جانب سے بارہ افراد اور اداروں پر پابندیوں کے معاملے پر چینی ترجمان نے کہا کہ بیجنگ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی منظوری یا بین الاقوامی قانون کے بغیر عائد کردہ یکطرفہ پابندیوں کی سختی سے مخالفت کرتا ہے۔ یہ پابندیاں ایران، ہانگ کانگ، متحدہ عرب امارات اور عمان میں قائم کمپنیوں اور حکام کو نشانہ بناتی ہیں۔

ترجمان گو جیاکون نے مزید کہا کہ چین اپنے کاروباری اداروں اور شہریوں کے جائز حقوق اور مفادات کا ہر صورت تحفظ کرے گا۔ انہوں نے زور دیا کہ مشرق وسطیٰ کے تنازع میں اس وقت سب سے اہم ترجیح لڑائی کے دوبارہ پھیلاؤ کو روکنا ہے نہ کہ صورتحال کا فائدہ اٹھا کر چین پر کیچڑ اچھالنا ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -