ماسکو میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے اعلان کیا ہے کہ روس رواں برس کے اختتام تک اپنے نئے اسٹریٹجک ایٹمی میزائل سرمت کو باقاعدہ طور پر تعینات کر دے گا۔ پیوٹن نے اس میزائل کو دنیا کا طاقتور ترین ہتھیار قرار دیا ہے۔
سرکاری ٹیلی ویژن پر گفتگو کرتے ہوئے صدر پیوٹن نے دعویٰ کیا کہ اس میزائل کے وار ہیڈ کی تباہ کن صلاحیت کسی بھی مغربی ہم عصر ہتھیار کے مقابلے میں چار گنا زیادہ ہے جبکہ اس کی رینج 35 ہزار کلومیٹر سے بھی زائد ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ میزائل موجودہ اور مستقبل کے تمام تر اینٹی میزائل دفاعی نظاموں کو چکمہ دینے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔
روسی اسٹریٹجک میزائل فورسز کے کمانڈر سرگئی کاراکایف نے صدر پیوٹن کو منگل کے روز سرمت کے کامیاب تجربے پر بریفنگ دی۔ کمانڈر کا کہنا تھا کہ اس میزائل سسٹم کی شمولیت سے زمینی بنیادوں پر قائم روسی جوہری قوتوں کی صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ ہوگا اور یہ تزویراتی ڈیٹرنس کے مسائل حل کرنے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔
یہ میزائل امریکہ یا یورپ میں ہزاروں میل دور اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ تاہم مغربی سیکیورٹی ماہرین نے پیوٹن کے ان دعووں کو مبالغہ آرائی قرار دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق 2018 میں شروع ہونے والے روسی جدید کاری کے پروگرام میں شامل کئی ہتھیاروں کی کارکردگی پر سوالات اٹھائے جاتے رہے ہیں۔
مغربی ذرائع کے مطابق ماضی میں سرمت میزائل کے تجربات میں ناکامیاں بھی دیکھی گئی ہیں اور ستمبر 2024 میں ہونے والا ایک تجربہ ناکامی کے باعث لانچ سائیلو میں گہرے گڑھے کا سبب بنا تھا۔
سن 2022 میں یوکرین جنگ کے آغاز کے بعد سے صدر پیوٹن مسلسل اپنے جوہری ہتھیاروں کی طاقت کا ذکر کرتے رہے ہیں۔ مغربی ممالک ان بیانات کو یوکرین کی حمایت میں مداخلت سے باز رکھنے کے لیے ایک حکمت عملی کے طور پر دیکھتے ہیں۔
