-Advertisement-

امریکہ میں افراطِ زر تین سالہ بلند ترین سطح پر، سٹگفلیشن کا خدشہ

تازہ ترین

اٹالین سیری اے: بولوگنا نے ناپولی کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد شکست دے دی

اٹلی کی سیری اے فٹ بال لیگ میں نیپولی کو بولوگنا کے ہاتھوں دو کے مقابلے میں تین گول...
-Advertisement-

امریکا میں مہنگائی کی شرح میں مسلسل دوسرے ماہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کی بنیادی وجہ ایران جنگ کے باعث ایندھن اور خوراک کی قیمتوں میں تیزی ہے۔ منگل کے روز جاری کردہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، امریکی محکمہ محنت نے بتایا کہ اپریل میں کنزیومر پرائس انڈیکس میں صفر اعشاریہ چھ فیصد اضافہ ہوا، جبکہ مارچ میں یہ شرح صفر اعشاریہ نو فیصد تھی۔

تازہ ترین اعداد و شمار کے بعد سالانہ بنیادوں پر مہنگائی تین سال کی بلند ترین سطح یعنی تین اعشاریہ آٹھ فیصد پر پہنچ گئی ہے۔ اس اضافے میں توانائی کی قیمتوں کا کردار نمایاں ہے جو کہ مجموعی ماہانہ اضافے کا چالیس فیصد سے زائد ہے۔ عالمی سطح پر جغرافیائی تناؤ کے باعث پیٹرول کی قیمتوں میں پانچ اعشاریہ چار فیصد اور بجلی کی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے۔

غذائی اجناس کی قیمتوں میں بھی صفر اعشاریہ پانچ فیصد اضافہ ہوا ہے، جس میں بیف کی قیمتوں میں دو اعشاریہ سات فیصد جبکہ پھلوں، سبزیوں اور ڈیری مصنوعات کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ خوراک اور توانائی کے علاوہ بنیادی مہنگائی میں بھی صفر اعشاریہ چار فیصد اضافہ ہوا ہے، جو کہ دو ہزار پچیس کے اوائل کے بعد سب سے زیادہ ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی تیل کی ترسیل متاثر ہو رہی ہے، جہاں سے دنیا کا بیس فیصد تیل گزرتا ہے۔ اس صورتحال نے امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں کٹوتی کی امیدوں کو ختم کر دیا ہے، اور اب توقع کی جا رہی ہے کہ مرکزی بینک موجودہ شرح کو برقرار رکھے گا۔

معروف سرمایہ کار اور برج واٹر ایسوسی ایٹس کے بانی رے ڈالیو نے خبردار کیا ہے کہ امریکی معیشت اب سٹیگفلیشن کے دور میں داخل ہو رہی ہے، جہاں مہنگائی بلند ہے جبکہ معاشی ترقی کی رفتار سست ہے۔ سی این بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے ڈالیو نے کہا کہ توانائی کی بڑھتی قیمتیں اور جغرافیائی عدم استحکام فیڈرل ریزرو کے لیے پالیسی سازی کو مشکل بنا رہے ہیں۔

رے ڈالیو نے مزید کہا کہ عالمی مالیاتی نظام میں غیر یقینی صورتحال کے پیش نظر سرمایہ کاروں کو اپنے پورٹ فولیو میں سونے کی مقدار پانچ سے پندرہ فیصد تک بڑھانی چاہیے۔ اگرچہ امریکی اسٹاک مارکیٹ کارپوریٹ آمدنی کے باعث فی الحال مستحکم دکھائی دے رہی ہے، تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مہنگائی اور توانائی کی قیمتوں میں تیزی آنے والے مہینوں میں مارکیٹ کے استحکام کے لیے بڑا امتحان ثابت ہو سکتی ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -