امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ایران کو ایٹمی ہتھیاروں کے حصول سے روکنے کے لیے واشنگٹن کی پالیسی اٹل ہے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ انہیں سو فیصد یقین ہے کہ ایران یورینیم کی افزودگی کا عمل روک دے گا اور ایٹمی ہتھیار بنانے کی کوششوں سے دستبردار ہو جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ امریکہ کا مقصد ایران کے ساتھ ایک بہتر معاہدہ طے کرنا ہے اور اس بحران کا جو بھی حل نکلے، فتح امریکہ ہی کی ہوگی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران کو جوہری ہتھیار رکھنے کی ہرگز اجازت نہیں دی جا سکتی۔
امریکی صدر نے علاقائی سفارت کاری میں پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی خدمات کی تعریف کی۔ ٹرمپ نے کہا کہ پاکستانی قیادت کا کردار انتہائی شاندار رہا ہے اور وہ اس معاملے میں پاکستان کی کوششوں کے معترف ہیں۔
ایران کی عسکری صلاحیتوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کی جنگی مشینری کو مکمل طور پر ناکارہ بنا دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تہران کے خلاف امریکی ناکہ بندی سو فیصد مؤثر ثابت ہوئی ہے۔
چین کے کردار پر تبصرہ کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ ایران کے معاملے پر انہیں بیجنگ کی مدد درکار نہیں ہے، تاہم وہ رواں ہفتے بیجنگ کے دورے کے دوران چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ اس مسئلے پر تفصیلی بات چیت کریں گے۔ ٹرمپ نے چینی صدر کے رویے کو مجموعی طور پر مناسب قرار دیا۔
