-Advertisement-

نیپالی کوہ پیماؤں کی جانب سے ماؤنٹ ایورسٹ سر، کوہ پیمائی کے موسم کا باقاعدہ آغاز

تازہ ترین

فلپائن کی سینیٹ میں فائرنگ، عوام کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت

فلپائن کے دارالحکومت منیلا میں سینیٹ کی عمارت اس وقت میدان جنگ بن گئی جب بدھ کی شام وہاں...
-Advertisement-

نیپالی کوہ پیماؤں کی ایک ٹیم نے بدھ کے روز ماؤنٹ ایورسٹ کی چوٹی سر کر لی ہے جس کے بعد دنیا کی بلند ترین چوٹی پر جانے کے خواہشمند سیکڑوں کوہ پیماؤں کے لیے راستہ کھل گیا ہے۔ مہم جوئی کا انتظام کرنے والی تنظیموں کے مطابق رسی باندھنے والی ٹیم کے بارہ ارکان نے یہ کامیابی حاصل کی ہے جس کے ساتھ ہی موسم بہار کی کوہ پیمائی کا روایتی آغاز ہو گیا ہے۔

سیون سمٹس ٹریکس کے چھانگ داوا شیرپا نے بیس کیمپ سے میڈیا کو بتایا کہ رسی درست کرنے والی ٹیم صبح سویرے چوٹی پر پہنچ گئی اور اب دیگر کوہ پیما آگے بڑھ رہے ہیں۔ امیجن نیپال کے منگما جی شیرپا کی زیر نگرانی کام کرنے والی دوسری ٹیم نے بھی راستے کی تیاری میں معاونت کی۔ انہوں نے کہا کہ کوہ پیما چوٹی سر کرنے کے منتظر تھے اس لیے وقت پر راستہ کھولنا انتہائی ضروری تھا۔

اس سے قبل کھمبو آئس فال کے اوپر برفانی تودے کے باعث کام میں عارضی تعطل پیدا ہوا تھا جس سے سیزن میں تاخیر کا خدشہ پیدا ہو گیا تھا تاہم ٹیموں نے آٹھ ہزار آٹھ سو انچاس میٹر بلند چوٹی تک پہنچنے کے لیے متبادل راستہ تلاش کر لیا۔ نیپال نے اس سیزن کے لیے چار سو بانوے پرمٹ جاری کیے ہیں اور بیس کیمپ پر کوہ پیماؤں اور معاون عملے کے لیے خیموں کا ایک پورا شہر آباد ہو چکا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر کوہ پیما کے ساتھ کم از کم ایک نیپالی گائیڈ کی موجودگی کے باعث آنے والے چند دنوں میں تقریباً ایک ہزار افراد چوٹی کی جانب رخ کریں گے۔ کوہ پیماؤں کی اس بڑی تعداد نے پہاڑ پر رش کے خدشات کو دوبارہ جنم دیا ہے خاص طور پر اگر خراب موسم کے باعث کوہ پیمائی کا دورانیہ کم ہو گیا۔ سن دو ہزار انیس میں چوٹی کے قریب شدید رش کے باعث کوہ پیماؤں کو گھنٹوں قطار میں کھڑا رہنا پڑا تھا جس کے بعد ہونے والی متعدد ہلاکتوں کی ذمہ داری بھی اسی رش پر عائد کی گئی تھی۔

اس سیزن میں چین کی جانب سے تبت کا شمالی راستہ بند کیے جانے کے بعد تمام مہمات نیپال کے راستے ہو رہی ہیں۔ اس سال پرمٹ حاصل کرنے والوں میں چینی شہریوں کی تعداد سب سے زیادہ ایک سو نو ہے جبکہ امریکی کوہ پیماؤں کی تعداد چھہتر ہے۔ ایورسٹ کی تیاریوں کے دوران اب تک تین نیپالی کوہ پیما ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ دیگر ہمالیائی چوٹیوں پر دو غیر ملکی کوہ پیما بھی جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ دنیا کی دس بلند ترین چوٹیوں میں سے آٹھ کی میزبانی کرنے والا ملک نیپال اپنی سیاحت اور کوہ پیمائی کی صنعت پر انحصار کرتا ہے جو اس کی آمدنی کا ایک اہم ذریعہ ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -