-Advertisement-

پیرس میں پہلی ‘موڈیسٹ فیشن ویک’ کا انعقاد، مذہبی لباس پر بحث میں تیزی

تازہ ترین

بائبل کے قدیم قبیلے سے تعلق کے دعویدار 250 سے زائد بھارتی شہری اسرائیل پہنچ گئے

بھارت سے تعلق رکھنے والے ڈھائی سو سے زائد افراد جمعرات کے روز تل ابیب پہنچ گئے ہیں جو...
-Advertisement-

پیرس نے پہلی بار موڈیسٹ فیشن ویک کی میزبانی کی ہے جس میں تقریباً 30 ڈیزائنرز نے شرعی اصولوں کے مطابق ڈھلے ہوئے لباس اور اسکارف کے ملبوسات پیش کیے۔ اس تقریب میں بین الاقوامی ڈیزائنرز نے ایسے ملبوسات متعارف کروائے جو بازوؤں، ٹانگوں اور سر کو ڈھانپنے کے اسلامی معیار پر پورا اترتے ہیں۔

منتظمین کے مطابق فرانس میں اس ایونٹ کا انعقاد ایک علامتی اہمیت کا حامل ہے، کیونکہ یہ ملک طویل عرصے سے اپنی سخت سیکولر قوانین کے تحت عوامی زندگی میں مذہبی لباس کے استعمال پر بحث میں گھرا ہوا ہے۔ فرانس میں مسلمانوں کی آبادی کا تخمینہ 50 سے 75 لاکھ کے درمیان ہے اور اس تقریب کا مقصد پیرس کو یورپ میں باوقار فیشن کے مرکز کے طور پر ابھارنا ہے۔

شامز الیزے کے قریب ایک تاریخی مقام پر منعقدہ اس فیشن شو میں پھولوں کے ڈیزائن، کھلے ڈھلے ملبوسات اور فطرت سے متاثر رنگوں کے ساتھ ساتھ جدید اسٹریٹ ویئر کے انداز بھی نمایاں رہے۔ نائیجیریا، ترکی، انڈونیشیا اور آسٹریلیا سے تعلق رکھنے والے ڈیزائنرز نے نرم رومانوی ملبوسات سے لے کر نوجوان نسل کے رجحانات سے ہم آہنگ اسپورٹی لباس تک اپنے فن کے نمونے پیش کیے۔

صنعتی تحقیق کے مطابق باوقار فیشن کی صنعت تیزی سے پھیل رہی ہے اور اگلے سال تک اس پر عالمی اخراجات 400 ارب ڈالر سے تجاوز کر جانے کی توقع ہے۔ اگرچہ اس کا مرکز بنیادی طور پر مسلمان صارفین رہے ہیں، لیکن اب یہ شعبہ مختلف مذاہب اور غیر مذہبی حلقوں میں بھی تیزی سے مقبول ہو رہا ہے۔

یہ ایونٹ ایسے وقت میں ہوا ہے جب فرانس کے سیکولر قوانین عوامی مقامات بشمول سرکاری اسکولوں میں مذہبی علامات کے استعمال پر پابندی عائد کرتے ہیں۔ اس نمائش کے شرکاء اور ڈیزائنرز کا کہنا ہے کہ یہ تقریب فیشن میں مسلم خواتین کی بڑھتی ہوئی نمائندگی اور فرانسیسی معاشرے میں شمولیت کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔ تاہم، کچھ حلقوں نے عوامی مقامات اور سوئمنگ پولز میں مذہبی لباس پر عائد پابندیوں کی جانب بھی توجہ دلائی ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -