-Advertisement-

بائبل کے قدیم قبیلے سے تعلق کے دعویدار 250 سے زائد بھارتی شہری اسرائیل پہنچ گئے

تازہ ترین

پیرس میں پہلی ‘موڈیسٹ فیشن ویک’ کا انعقاد، مذہبی لباس پر بحث میں تیزی

پیرس نے پہلی بار موڈیسٹ فیشن ویک کی میزبانی کی ہے جس میں تقریباً 30 ڈیزائنرز نے شرعی اصولوں...
-Advertisement-

بھارت سے تعلق رکھنے والے ڈھائی سو سے زائد افراد جمعرات کے روز تل ابیب پہنچ گئے ہیں جو خود کو قدیم بائبل کے گمشدہ اسرائیلی قبیلے بنی منشی کی اولاد قرار دیتے ہیں۔ یہ نقل مکانی اسرائیلی حکومت کے اس خصوصی آپریشن کا حصہ ہے جس کے تحت بھارت کی شمال مشرقی ریاست منی پور سے اس برادری کے تقریباً چار ہزار چھ سو افراد کو اسرائیل منتقل کیا جائے گا۔ اسرائیلی حکومت نے گزشتہ نومبر میں اس ہجرت کے اخراجات اٹھانے کا فیصلہ کیا تھا۔

بنی منشی کا دعویٰ ہے کہ ان کا تعلق حضرت منشی کی نسل سے ہے جنہیں سات سو بیس قبل مسیح میں اشوری فاتحین نے جلاوطن کر دیا تھا۔ شاوئی اسرائیل نامی تنظیم کے مطابق نوے کی دہائی سے اب تک چار ہزار افراد اسرائیل منتقل ہو چکے ہیں جبکہ سات ہزار کے قریب ابھی بھی بھارت میں مقیم ہیں۔ ان کی زبانی روایات کے مطابق یہ گروہ صدیوں پر محیط سفر کے دوران ایران، افغانستان، تبت اور چین سے ہوتا ہوا یہاں پہنچا اور اس دوران انہوں نے ختنہ جیسی یہودی مذہبی روایات کو برقرار رکھا۔ انیسویں صدی میں مسیحی مشنریوں نے انہیں عیسائیت کی طرف راغب کیا تھا۔

اسرائیلی وزارت انضمام کے مطابق تل ابیب پہنچنے والے ان ڈھائی سو افراد کو شمالی اسرائیل میں بسایا جائے گا۔ اسرائیلی شہریت حاصل کرنے کے لیے انہیں باقاعدہ یہودی مذہب اختیار کرنا ہوگا۔ ایئرپورٹ پر ان افراد کا استقبال کرتے ہوئے وزیر ہجرت اوفیر سوفیر نے اسے ایک تاریخی لمحہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک ایسے آپریشن کا آغاز ہے جس کے تحت سالانہ بارہ سو افراد کو اسرائیل لایا جائے گا۔

واضح رہے کہ بھارتی ریاست منی پور میں گزشتہ تین برسوں سے ہندو اکثریتی میتی اور مسیحی کوکی برادری کے درمیان جاری تصادم میں ڈھائی سو سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ اپریل دو ہزار پچیس سے اب تک اٹھارہ ہزار یہودی اسرائیل منتقل ہوئے ہیں جو کہ گزشتہ برس کے مقابلے میں اٹھارہ فیصد کم ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -