-Advertisement-

غزہ میں دو دہائیوں بعد بلدیاتی انتخابات کا انعقاد، فلسطینیوں کا حق رائے دہی کا استعمال

تازہ ترین

یوکرین جنگ میں شمالی کوریا کی شمولیت، روسی پارلیمان کے اسپیکر کا دورہ پیانگ یانگ

شمالی کوریا کی جانب سے روس اور یوکرین تنازع میں ماسکو کی حمایت کے لیے بھیجے گئے فوجیوں کے...
-Advertisement-

فلسطینی علاقوں میں دو دہائیوں بعد مقامی انتخابات کا انعقاد کیا گیا ہے جس میں غزہ کی پٹی کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ یہ انتخابات ایک ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب اسرائیل کی جانب سے فلسطینی ریاست کے قیام کے امکانات کو ختم کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ مغربی کنارے میں قائم فلسطینی اتھارٹی ان انتخابات کو غزہ پر اپنی عملداری کے دعوے کو مضبوط بنانے کے طور پر دیکھ رہی ہے، جہاں سے اسے دو ہزار سات میں حماس نے بے دخل کر دیا تھا۔

غزہ کے شہر دیر البلح میں پولنگ اسٹیشن پر موجود باون سالہ ووٹر ممدوح البیصی نے کہا کہ ایک فلسطینی اور غزہ کا باشندہ ہونے کے ناطے انہیں فخر ہے کہ اس جنگ کے بعد جمہوری عمل کی واپسی ہو رہی ہے۔ اگرچہ حماس نے ان انتخابات کا بائیکاٹ کیا ہے تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ دیر البلح میں کچھ امیدواروں کو حماس کی حمایت حاصل ہے، جس سے اس گروپ کی مقبولیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

انتخابی کمیٹی کے علاقائی ڈائریکٹر جمیل الخالدی نے کہا کہ یہ دنیا کے لیے ایک پیغام ہے کہ غزہ کی پٹی اور مغربی کنارہ ایک جغرافیائی وحدت ہیں۔ فلسطینی الیکشن کمیشن کے مطابق دس لاکھ سے زائد فلسطینی ووٹ ڈالنے کے اہل ہیں جن میں ستر ہزار کا تعلق غزہ سے ہے۔ انتخابات کے نتائج ہفتے کی رات یا اتوار تک متوقع ہیں۔

مغربی سفارت کاروں کا ماننا ہے کہ یہ مقامی انتخابات دو دہائیوں میں ہونے والے پہلے قومی انتخابات کی جانب ایک قدم ثابت ہو سکتے ہیں۔ یورپی اور عرب حکومتیں فلسطینی اتھارٹی کی غزہ میں واپسی اور مشرقی یروشلم، غزہ اور مغربی کنارے پر مشتمل ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کرتی ہیں۔

دوسری جانب فلسطینی اتھارٹی کو شدید معاشی بحران کا سامنا ہے کیونکہ اسرائیل نے محصولات کی رقوم روک رکھی ہیں۔ اسرائیل کا موقف ہے کہ یہ رقوم ان قیدیوں اور ہلاک شدگان کے خاندانوں کو دی جاتی ہیں جو ان کے بقول حملوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ ادھر اسرائیلی وزیر خزانہ بیزلیل سموٹریچ نے بارہا اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ فلسطینی ریاست کے تصور کو ختم کر دیں گے۔

دیر البلح میں جہاں دیگر شہروں کے مقابلے میں تباہی کم ہوئی ہے، پولنگ کا عمل جاری رہا تاہم بجلی کی قلت کے باعث پولنگ کا وقت دو گھنٹے پہلے ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ الیکشن کمیشن نے وضاحت کی کہ غزہ کے دیگر حصوں میں وسیع پیمانے پر تباہی کے باعث انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں ہو سکا۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -