مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور آبنائے ہرمز پر کنٹرول کے لیے امریکا اور ایران کے درمیان تازہ ترین جھڑپوں کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ جاری ہے۔ منگل کے روز برینٹ کروڈ آئل کے سودے 93 سینٹ یعنی 0.8 فیصد کمی کے بعد 113.51 ڈالر فی بیرل پر آ گئے، تاہم قیمتیں بدستور 114 ڈالر کے قریب برقرار ہیں۔ اسی طرح امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کی قیمت 2.16 ڈالر یعنی 2 فیصد گر کر 104.26 ڈالر فی بیرل پر بند ہوئی۔
فلپ نووا کی سینئر مارکیٹ تجزیہ کار پرینکا سچدیوا کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتیں انتہائی غیر مستحکم ہیں جس کی بنیادی وجہ آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ قیمتوں میں معمولی کمی کسی بہتری کی علامت نہیں بلکہ یہ امریکا کی جانب سے شروع کیے گئے پروجیکٹ فریڈم کے بعد ایک عارضی سکون ہے۔
امریکا نے پیر کے روز آبنائے ہرمز کو جہاز رانی کے لیے دوبارہ کھولنے کے لیے ایک نیا آپریشن شروع کیا ہے۔ مرسک کمپنی کے مطابق امریکی فوجی دستوں کی نگرانی میں امریکی پرچم بردار جہاز الائنس فیئر فیکس خلیج سے نکلنے میں کامیاب رہا۔ کے سی ایم ٹریڈ کے چیف مارکیٹ تجزیہ کار ٹم واٹر کے مطابق یہ ایک محدود پیش رفت ہے اور اس سے سپلائی میں تعطل کے بدترین خدشات میں کچھ کمی آئی ہے، تاہم اسے مکمل بحالی قرار نہیں دیا جا سکتا۔
دوسری جانب ایران نے آبنائے ہرمز پر امریکی کنٹرول کو چیلنج کرتے ہوئے خلیج میں جوابی حملے کیے ہیں۔ آبنائے ہرمز عالمی منڈیوں کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہے جہاں سے دنیا بھر کی یومیہ طلب کا تقریباً 20 فیصد تیل اور گیس گزرتا ہے۔ اطلاعات کے مطابق علاقے میں کئی تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ متحدہ عرب امارات کی ایک اہم آئل پورٹ پر ایرانی حملے کے بعد آگ بھڑک اٹھی۔
یہ کشیدگی چار ہفتے قبل ہونے والی جنگ بندی کے بعد سب سے بڑی شدت اختیار کر گئی ہے۔ آئی این جی کے تجزیہ کاروں کے مطابق صدر ٹرمپ کے اس بیان سے مارکیٹ کو کچھ ریلیف ملا ہے کہ تنازع مزید دو سے تین ہفتے جاری رہ سکتا ہے، تاہم مارکیٹ میں اس دعوے پر کافی شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں کیونکہ ماضی میں بھی جنگ کے خاتمے کی ڈیڈ لائنز کئی بار تبدیل ہو چکی ہیں۔
