-Advertisement-

چین: آتش بازی کے کارخانے میں دھماکہ، 26 افراد ہلاک، درجنوں زخمی

تازہ ترین

کیریبین سمندر میں امریکی کارروائی، منشیات اسمگلنگ کے شبے میں کشتی پر حملہ، 2 افراد ہلاک

امریکی فوج نے کیریبین سمندر میں منشیات کی اسمگلنگ کے شبے میں ایک کشتی پر حملہ کیا ہے جس...
-Advertisement-

چین کے وسطی صوبے میں واقع پٹاخوں کی ایک فیکٹری میں ہونے والے خوفناک دھماکے کے نتیجے میں کم از کم 26 افراد ہلاک اور 61 زخمی ہو گئے۔ حکام کے مطابق یہ حادثہ پیر کی سہ پہر صوبہ ہونان کے شہر چانگشا میں پیش آیا۔

سرکاری خبر رساں ادارے ژنہوا کے مطابق دھماکہ لیویانگ شہر میں واقع ہواشینگ فائر ورکس مینوفیکچرنگ اینڈ ڈسپلے کمپنی کے پلانٹ میں ہوا۔ لیویانگ کا علاقہ آتش بازی کے سامان کی تیاری کے لیے عالمی سطح پر مشہور ہے۔

چانگشا کے میئر چن بوزہانگ نے بتایا کہ جائے وقوعہ پر سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن کا بڑا حصہ مکمل کر لیا گیا ہے تاہم ہلاکتوں کی تصدیق اور متاثرین کی شناخت کا عمل ابھی جاری ہے۔ سرکاری نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی کی فضائی فوٹیج میں دیکھا گیا کہ دھماکے کے مقام پر عمارتیں تباہ ہو چکی ہیں اور اب بھی کہیں کہیں سے دھواں اٹھ رہا ہے۔

انتظامیہ نے جائے وقوعہ کے قریب موجود بارود کے دو گوداموں کو انتہائی خطرناک قرار دیتے ہوئے قریبی علاقوں سے رہائشیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا ہے۔ امدادی کارروائیوں کے لیے تقریباً 500 ریسکیو اہلکار تعینات کیے گئے ہیں جبکہ تلاش کے عمل کو تیز کرنے کے لیے جدید روبوٹس کی خدمات بھی لی جا رہی ہیں۔

چینی صدر شی جن پنگ نے حکام کو ہدایت کی ہے کہ لاپتہ افراد کی تلاش اور زخمیوں کی جان بچانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر تمام تر وسائل بروئے کار لائے جائیں۔ انہوں نے واقعے کی فوری تحقیقات اور ذمہ داروں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کا حکم بھی دیا ہے۔ چینی حکام نے کمپنی کے انچارج کو حراست میں لے لیا ہے اور حادثے کی وجوہات کا تعین کیا جا رہا ہے۔

لیویانگ کو آتش بازی کے سامان کی تیاری کا قدیم مرکز سمجھا جاتا ہے جس کی تاریخ تانگ خاندان کے دور سے جڑی ہے۔ رواں برس فروری میں بھی چین میں قمری سال کے موقع پر پٹاخوں کی دکانوں میں دھماکوں کے دو ہلاکت خیز واقعات پیش آئے تھے۔ اعداد و شمار کے مطابق چین دنیا بھر میں پٹاخوں کی کل عالمی فروخت کا دو تہائی حصہ فراہم کرتا ہے اور گزشتہ برس اس نے ایک ارب 14 کروڑ ڈالر مالیت کے آتش بازی کے سامان کی برآمدات کی تھیں۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -