دادو کی ماڈل عدالت نے پیر کے روز ہائی پروفائل ٹرپل مرڈر کیس میں نامزد تمام آٹھ ملزمان کو بری کر دیا ہے۔ اس مقدمے میں ام رباب چانڈیو کے والد، دادا اور چچا کو قتل کیا گیا تھا اور یہ عدالتی جنگ سات برس تک جاری رہی۔
عدالت نے فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد ستائیس فروری کو فیصلہ محفوظ کیا تھا، جس کے لیے گزشتہ برسوں کے دوران چار سو سے زائد سماعتیں کی گئیں۔ یہ کیس عوامی حلقوں میں اس لیے بھی شدید توجہ کا مرکز رہا کیونکہ اس میں بااثر شخصیات ملوث تھیں۔
مذکورہ قتل مبینہ طور پر اس وقت پیش آئے جب ام رباب کے خاندان کے افراد نے میرپور خاص کے علاقے میں قبائلی سرداری نظام کے خلاف تمندار کونسل تشکیل دی تھی۔ ملزمان میں سندھ اسمبلی کے ارکان سردار احمد چانڈیو اور برہان خان چانڈیو کے ساتھ ساتھ سابق ایس ایچ او کریم بخش چانڈیو بھی شامل تھے۔
عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ام رباب چانڈیو نے اعلان کیا کہ وہ اس فیصلے کو ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں چیلنج کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ انہیں اعلیٰ عدلیہ سے انصاف کی پوری امید ہے اور عوامی عدالت میں وہ یہ مقدمہ پہلے ہی جیت چکی ہیں کیونکہ عوام حقیقت سے بخوبی واقف ہیں۔
ام رباب کا کہنا تھا کہ ان کی جدوجہد اب تک کامیاب رہی ہے اور انصاف کے حصول کے لیے ان کے عزم میں کوئی کمی نہیں آئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ پانچوں انگلیاں برابر نہیں ہوتیں، اسی لیے وہ اس فیصلے کے خلاف اعلیٰ عدالتوں سے رجوع کریں گی۔ انہوں نے اعادہ کیا کہ ان کا حوصلہ پہلے کی طرح آج بھی بلند ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ مشکل کی اس گھڑی میں کمزور طبقے کو…
چین کے مقبول مصنوعی ذہانت کے چیٹ بوٹ ڈیپ سیک کو پیر کے روز ایک…
صدر مملکت آصف علی زرداری کی زیر صدارت ایوان صدر میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس…
عالمی سطح پر تیل اور گیس کی قیمتوں میں مسلسل اضافے اور مشرق وسطیٰ میں…
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار آج بیجنگ کا دورہ کریں گے جہاں وہ چینی قیادت کو…
کویت میں بجلی اور پانی کو قابل استعمال بنانے والے پلانٹ پر ایرانی حملے کے…