کراچی میں گل پلازہ میں لگنے والی آگ سے متعلق عدالتی کمیشن کی تحقیقاتی رپورٹ منظر عام پر آگئی ہے جس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ عمارت میں آگ بجھانے والا کوئی خودکار نظام یا الارم سسٹم موجود ہی نہیں تھا۔
سندھ کے وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت منعقدہ اجلاس میں اس رپورٹ کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ 17 جنوری 2026 کو پیش آنے والے اس واقعے کے دوران عمارت میں ہنگامی انخلا کے انتظامات بھی انتہائی ناقص تھے، جبکہ عمارت کے باہر تجاوزات اور تعمیراتی کام نے امدادی کارروائیوں میں شدید رکاوٹیں کھڑی کیں۔
وزیر اعلیٰ سندھ نے عدالتی کمیشن کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ عمارتوں کی حفاظت کے لیے جامع اصلاحات متعارف کرائی جائیں۔ انہوں نے تمام عمارتوں کے لیے فائر سیفٹی آڈٹ کو لازمی قرار دینے کا حکم دیا ہے۔
معاملے کو جلد حتمی شکل دینے کے لیے وزیر اعلیٰ نے تین رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے جس میں سید ناصر حسین شاہ، ضیاء الحسن لنجار اور جام اکرام اللہ دھاریجو شامل ہیں۔ یہ کمیٹی رپورٹ کا جائزہ لے کر اپنی سفارشات فوری طور پر وزیر اعلیٰ کو پیش کرے گی۔
اجلاس میں صوبائی وزراء شرجیل انعام میمن، ناصر حسین شاہ، ضیاء الحسن لنجار، میئر کراچی مرتضیٰ وہاب اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔
امریکہ اور ایران کے مابین جنگ بندی کے معاہدے کے ابتدائی دو دنوں کے دوران…
کراچی کے علاقے بلوچ کالونی پل پر تیز رفتاری کا المناک واقعہ پیش آیا ہے…
جنوبی افریقہ کی کرکٹ ٹیم لائنز نے آل راؤنڈر بیئرز سوانپول کا معاہدہ ختم کر…
لاس اینجلس اولمپکس 2028 کے ٹکٹوں کی عالمی فروخت کا آغاز جمعرات کے روز کر…
روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے آرتھوڈوکس ایسٹر کے تہوار کے موقع پر یوکرین میں 32…
میرپور خاص کے علاقے سیٹلائٹ ٹاؤن میں میڈیکل کی طالبہ فہمیدہ لغاری نے مبینہ طور…