امریکی نائب صدر جے ڈی وینس ایران کے ساتھ جاری غیر مستحکم جنگ بندی کو پائیدار امن معاہدے میں تبدیل کرنے کے مشن پر اسلام آباد پہنچ گئے ہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سونپی گئی یہ ذمہ داری 41 سالہ جے ڈی وینس کے کیریئر کا اہم ترین موڑ ثابت ہو سکتی ہے، جو 2028 کے صدارتی انتخابات میں مضبوط امیدوار کے طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔
یونیورسٹی آف میری لینڈ کے ماہر ایرون وولف مینس کا کہنا ہے کہ یہ ایک انتہائی مشکل اور زیادہ خطرات والا اقدام ہے کیونکہ عام طور پر امریکی نائب صدور اس نوعیت کے باقاعدہ مذاکرات کی قیادت نہیں کرتے۔ جے ڈی وینس ماضی میں غیر ملکی جنگوں میں امریکی مداخلت کے سخت مخالف رہے ہیں اور انہوں نے 28 فروری کو ایران کے خلاف شروع ہونے والی جنگ کی مخالفت بھی کی تھی۔
وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیوٹ کے مطابق وینس اس پورے عمل میں شروع سے ہی کلیدی کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ اسلام آباد میں شروع ہونے والے ان مذاکرات میں وینس کے ہمراہ خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر بھی موجود ہیں۔ یہ 2011 میں جو بائیڈن کے دورے کے بعد کسی امریکی نائب صدر کا پاکستان کا پہلا دورہ ہے۔
تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ایران جے ڈی وینس کو ایک زیادہ مناسب سفارتی شراکت دار کے طور پر دیکھ سکتا ہے کیونکہ وہ جنگ کے خلاف اپنی رائے کا اظہار کر چکے ہیں۔ وائٹ ہاؤس کی ڈپٹی پریس سیکرٹری اینا کیلی نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ اس معاہدے کے ذریعے مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن کے قیام کے لیے پرامید ہیں۔
اس سفارتی مشن کے پس منظر میں ریپبلکن پارٹی کے اندر صدارتی جانشینی کی دوڑ بھی شامل ہے۔ جے ڈی وینس کو اس عمل میں کامیابی حاصل کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ ناکامی کی صورت میں ان کی اہلیت پر سوالات اٹھ سکتے ہیں، جس سے ان کے ممکنہ حریف اور وزیر خارجہ مارکو روبیو کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ وینس کا یہ اقدام ان کے سیاسی مستقبل کے لیے ایک کڑا امتحان قرار دیا جا رہا ہے۔
تہران کی جانب سے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں پر ٹیکس عائد کرنے…
کوئٹہ اور بلوچستان کے مختلف علاقوں میں ہونے والی بارش کے بعد موسم خوشگوار ہو…
لبنان کے جنوبی شہر نبطیہ میں اسرائیلی فضائی حملوں کے نتیجے میں ریاستی سکیورٹی کے…
بھارت سے سکھ یاتریوں کا ایک بڑا قافلہ واہگہ بارڈر کے راستے پاکستان پہنچ گیا…
اسکاٹ لینڈ میں ایک تاریخی عدالتی فیصلے میں چالیس سالہ لی ملن کو اپنی اہلیہ…
بیجنگ میں چینی صدر شی جن پنگ اور تائیوان کی اپوزیشن جماعت کومنتانگ کی سربراہ…