-Advertisement-

سینیٹ کمیٹی کا بلوچستان میں منشیات کی پیداوار پر اظہارِ تشویش، فوری کارروائی کی ہدایت

تازہ ترین

گورنر سندھ کی علاقائی امن کے لیے وزیراعظم شہباز شریف کی کوششوں کی تعریف

گورنر سندھ نہال ہاشمی نے منگل کے روز وزیراعظم ہاؤس میں وزیراعظم محمد شہباز شریف سے ملاقات کی۔ وزیراعظم...
-Advertisement-

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کی ذیلی کمیٹی نے بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں منشیات کی پیداوار، ایندھن کی اسمگلنگ اور ٹیکس چوری پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو فوری اور سخت کارروائی کی ہدایت کی ہے۔

سینیٹر سیف اللہ ابڑو کی زیر صدارت منعقدہ اجلاس میں کسٹمز ویئر ہاؤس سے بڑی مقدار میں سگریٹ چوری ہونے کے واقعے کا جائزہ لیا گیا۔ ایف آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ اس کیس میں ملوث متعدد افسران کو نوٹس جاری کر دیے گئے ہیں جبکہ دیگر سے مزید تفصیلات طلب کی گئی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ نوٹسز کے جوابات موصول ہونے کے بعد حتمی رپورٹ تیار کر لی جائے گی۔

اجلاس کے دوران سینیٹر عمر فاروق نے انکشاف کیا کہ بلوچستان کا ضلع قلعہ عبداللہ مکمل طور پر افیون اور چرس کی پیداوار میں ملوث ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ تیل کے بڑے اسمگلر کھلے عام اپنی سرگرمیوں کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کر رہے ہیں، جس کا متعلقہ اداروں کو نوٹس لینا چاہیے۔

کمیٹی میں ایران سے پاکستان میں ہونے والی تیل کی اسمگلنگ کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ کسٹمز حکام نے بتایا کہ بلوچستان کے چار اضلاع پنجگور، گوادر، کیچ اور واشک میں ایرانی تیل کی فروخت کی اجازت دی گئی ہے، جہاں روزانہ تقریباً تیس لاکھ لیٹر تیل ایران سے لایا جا رہا ہے اور یہ مقدار بعض اوقات اس سے بھی تجاوز کر جاتی ہے۔

کسٹمز حکام کے مطابق یہ اجازت ان دور دراز علاقوں میں آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کی عدم موجودگی کے باعث دی گئی ہے، جہاں پیٹرول پمپس قائم نہیں ہیں اور ایندھن کی باقاعدہ فراہمی ممکن نہیں ہے۔ حکام نے واضح کیا کہ یہ انتظام مقامی آبادی کی سہولت کے لیے کیا گیا ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -