-Advertisement-

پاکستان میں ایچ آئی وی ایڈز کے کیسز میں تشویشناک حد تک اضافہ، ماہرین کا اظہارِ تشویش

تازہ ترین

گورنر سندھ کی علاقائی امن کے لیے وزیراعظم شہباز شریف کی کوششوں کی تعریف

گورنر سندھ نہال ہاشمی نے منگل کے روز وزیراعظم ہاؤس میں وزیراعظم محمد شہباز شریف سے ملاقات کی۔ وزیراعظم...
-Advertisement-

پاکستان میں ایچ آئی وی ایڈز کے کیسز میں تشویشناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے جس پر طبی ماہرین نے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ملک بھر میں اب تک مجموعی طور پر ایک لاکھ آٹھ ہزار چار سو افراد میں اس وائرس کی تصدیق ہو چکی ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق پنجاب اس فہرست میں پہلے نمبر پر ہے جہاں متاثرین کی تعداد 45 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔ صوبے کے مختلف شہروں میں لاہور 10 ہزار سے زائد کیسز کے ساتھ سر فہرست ہے، جبکہ فیصل آباد میں پانچ ہزار، ملتان میں تین ہزار، سرگودھا اور گجرات میں 28 سو سے زائد اور ننکانہ صاحب میں دو ہزار سے زیادہ افراد وائرس سے متاثر ہیں۔

خیبر پختونخوا میں اب تک 39 ہزار 702 کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں، جن میں رواں سال سامنے آنے والے ایک ہزار 276 کیسز بھی شامل ہیں۔ پشاور میں 1877 اور بنوں میں 988 افراد متاثر پائے گئے ہیں، جبکہ مردان، چارسدہ، صوابی اور نوشہرہ کے اضلاع میں بھی کیسز کی نشاندہی ہوئی ہے۔

سندھ 15 ہزار 639 کیسز کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے۔ رواں سال کے ابتدائی تین ماہ کے دوران صوبے میں 894 نئے کیسز رپورٹ ہوئے جن میں 332 مرد، 204 خواتین، 29 خواجہ سرا اور 329 بچے شامل ہیں۔ کراچی میں بھی متاثرین کی بڑی تعداد موجود ہے۔

بلوچستان میں کل 3303 کیسز ریکارڈ کیے گئے ہیں جن میں 707 خواتین اور 90 خواجہ سرا شامل ہیں۔ کوئٹہ میں سب سے زیادہ 2614 کیسز سامنے آئے، اس کے بعد تربت میں 368، حب میں 159، لورالائی میں 96 اور نصیر آباد میں 66 کیسز رپورٹ ہوئے۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں متاثرین کی تعداد 4756 ہے جن میں 3432 مرد، 805 خواتین، 422 خواجہ سرا، 67 لڑکے اور 30 لڑکیاں شامل ہیں۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ابتدائی علامات ظاہر نہ ہونے کے باعث اصل تعداد ساڑھے تین لاکھ سے بھی تجاوز کر سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس پھیلاؤ کی بنیادی وجوہات میں آلودہ سرنجوں کا دوبارہ استعمال، غیر محفوظ انتقال خون، بنیادی طبی سہولیات کا فقدان اور کان و ناک چھیدنے کے لیے غیر جراثیم کش آلات کا استعمال شامل ہے۔

ماہرین نے اس خاموش اور خطرناک خطرے کو روکنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر آگاہی مہم چلانے، اسکریننگ کے عمل کو بہتر بنانے اور صحت کے سخت ضوابط نافذ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -