-Advertisement-

لاہور ہائی کورٹ: واپڈا اور ڈسکوز کے افسران کی مفت بجلی کی سہولت ختم کرنے کا فیصلہ برقرار

تازہ ترین

صدر مملکت کا ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لیے اجتماعی کوششوں پر زور

صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان کے ثقافتی ورثے کا تحفظ نہ صرف قومی ذمہ...
-Advertisement-

لاہور ہائی کورٹ نے واپڈا اور پاور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کے گریڈ 17 کے افسران کو مفت بجلی کی فراہمی ختم کرنے کے حکومتی فیصلے کو قانونی قرار دے دیا ہے۔ عدالت نے اس اقدام کے خلاف گپکو انجینئرز اینڈ آفیسرز ایسوسی ایشن کی جانب سے دائر کردہ درخواستیں مسترد کر دیں۔

جسٹس ملک جاوید اقبال وینس نے 14 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا جس میں واضح کیا گیا کہ مفت بجلی کی سہولت کوئی بنیادی یا قانونی حق نہیں ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ مالی مشکلات اور گردشی قرضوں کے پیش نظر حکومت کو اپنی پالیسیوں میں ردوبدل کا مکمل اختیار حاصل ہے۔

عدالتی فیصلے کے مطابق درخواست گزار یہ ثابت کرنے میں ناکام رہے کہ مفت بجلی کی فراہمی کسی قانون یا سٹیچوٹری رول کے تحت ان کا استحقاق تھی۔ عدالت نے اس بات پر زور دیا کہ عدلیہ انتظامی امور اور پالیسی سازی میں مداخلت نہیں کر سکتی جب تک کہ وہ غیر آئینی نہ ہو۔

درخواست گزاروں کا موقف تھا کہ یہ سہولت ان کی ملازمت کی شرائط کا حصہ ہے اور گریڈ ایک سے 16 تک کے ملازمین کو اب بھی یہ سہولت دی جا رہی ہے جو کہ امتیازی سلوک ہے۔ تاہم عدالت نے قرار دیا کہ اس اقدام میں کوئی بدنیتی شامل نہیں کیونکہ مفت بجلی کی سہولت کو ختم نہیں بلکہ مانیٹائز کر کے تنخواہوں میں شامل کیا گیا ہے۔

وفاقی وزیر برائے توانائی اویس لغاری نے عدالتی فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے ایک تاریخی پیش رفت قرار دیا ہے۔ انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے پیغام میں کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں پہلی بار پاور سیکٹر کے ملازمین کے لیے مفت بجلی کی سہولت کا خاتمہ کیا گیا ہے۔

اویس لغاری کا مزید کہنا تھا کہ یہ عوامی مطالبہ تھا جسے پورا کرنا حکومت کی اصلاحاتی ترجیحات میں شامل تھا۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت ملکی مفاد اور عوام کی فلاح کے لیے ضروری اقدامات کا سلسلہ جاری رکھے گی۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -