-Advertisement-

صدر مملکت کا ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لیے اجتماعی کوششوں پر زور

تازہ ترین

لاہور ہائی کورٹ: واپڈا اور ڈسکوز کے افسران کی مفت بجلی کی سہولت ختم کرنے کا فیصلہ برقرار

لاہور ہائی کورٹ نے واپڈا اور پاور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کے گریڈ 17 کے افسران کو مفت بجلی کی...
-Advertisement-

صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان کے ثقافتی ورثے کا تحفظ نہ صرف قومی ذمہ داری ہے بلکہ یہ معاشی اور سماجی ترقی کا ایک اہم ذریعہ بھی ہے۔ عالمی یومِ ثقافتی ورثہ کے موقع پر اپنے پیغام میں صدر مملکت نے سرکاری اداروں، صوبائی حکومتوں، مقامی آبادی اور نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ ملک کے تاریخی اثاثوں کی حفاظت کے لیے مشترکہ کوششیں کریں۔

صدر زرداری نے کہا کہ پاکستان دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں کا سنگم ہے، جہاں مہر گڑھ، وادی سندھ، گندھارا اور مغل دور کی نشانیاں انسانی تخلیقی صلاحیتوں اور جدت کی عکاس ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ تاریخی ورثہ ہماری قومی شناخت کو مستحکم کرنے میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔

صدر مملکت نے غیر مادی ثقافتی ورثے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ لوک کہانیاں، موسیقی، صوفیانہ شاعری اور قوالی ہماری اجتماعی یادداشت کا حصہ ہیں۔ انہوں نے کشمیری کڑھائی، سندھی اجرک، بلوچی کڑھائی، ملتان کی نیلی پوٹری، پشاوری چپل اور ٹرک آرٹ جیسے روایتی ہنر کو ملک کی ثقافتی تنوع اور ہنرمندی کا منہ بولتا ثبوت قرار دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ثقافتی ورثے کے مقامات محض تاریخی عمارتیں نہیں بلکہ یہ مقامی دستکاروں کے روزگار اور سیاحت کے فروغ کا ذریعہ بھی ہیں۔ صدر مملکت نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وفاقی حکومت جدید تکنیکوں اور ماہرین کی مدد سے تاریخی مقامات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے تمام اسٹیک ہولڈرز پر زور دیا کہ وہ مل کر پاکستان کی تہذیبی میراث کو محفوظ بنانے اور اسے دنیا کے سامنے اجاگر کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -