-Advertisement-

جہلم: انجینئر محمد علی مرزا پر قاتلانہ حملہ، جوابی فائرنگ سے حملہ آور ہلاک

تازہ ترین

آسٹریا: بچوں کی خوراک میں چوہے مار زہر کی موجودگی پر مصنوعات واپس منگوا لی گئیں

آسٹریا میں بچوں کی خوراک بنانے والی معروف ڈچ کمپنی ہپ کی مصنوعات میں چوہے مار زہر پائے جانے...
-Advertisement-

جہلم میں مذہبی اسکالر انجینئر محمد علی مرزا پر قاتلانہ حملے کی کوشش ناکام ہو گئی۔ اتوار کے روز جی ٹی ایس چوک کے قریب واقع قرآن و سنت ریسرچ اکیڈمی کے باہر ایک نامعلوم مسلح شخص نے فائرنگ کر دی، تاہم جوابی کارروائی میں حملہ آور ہلاک ہو گیا۔

پولیس ترجمان کاشف کیانی کے مطابق حملہ آور نائن ایم ایم پستول سے لیس تھا، جس نے اکیڈمی کے قریب پہنچ کر اچانک فائرنگ شروع کر دی۔ جائے وقوعہ پر موجود سیکیورٹی اہلکاروں نے فوری جوابی کارروائی کی جس کے نتیجے میں حملہ آور موقع پر ہی مارا گیا۔

ایس ایس پی چوہدری شفیق نے تصدیق کی ہے کہ انجینئر محمد علی مرزا حملے میں مکمل طور پر محفوظ رہے اور واقعہ کے بعد انہوں نے اکیڈمی میں اپنے معمول کے کام جاری رکھے۔ فائرنگ کے تبادلے کے دوران سیکیورٹی پر مامور ایک کانسٹیبل ٹانگ میں گولی لگنے سے زخمی ہوا، جسے فوری طور پر ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال منتقل کر دیا گیا جہاں ڈاکٹروں نے اسے خطرے سے باہر قرار دیا ہے۔

واقعہ کے بعد پولیس کی بھاری نفری نے علاقے کا محاصرہ کر لیا اور سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ حملہ آور کی شناخت کا عمل جاری ہے جس کے لیے نادرا کی مدد لی جا رہی ہے۔ تفتیشی ٹیمیں یہ بھی جائزہ لے رہی ہیں کہ آیا حملہ آور کے ساتھ کوئی اور ساتھی موجود تھا یا اس کا تعلق کسی نیٹ ورک سے ہے۔

پولیس نے واقعے کا مقدمہ درج کر کے تحقیقات شروع کر دی ہیں، تاہم حملے کا محرک تاحال واضح نہیں ہو سکا۔

انجینئر محمد علی مرزا سوشل میڈیا پر متحرک شخصیت ہیں اور ان کے یوٹیوب چینل کے 31 لاکھ سے زائد سبسکرائبرز ہیں۔ وہ ماضی میں بھی سیکیورٹی خدشات کا اظہار کر چکے ہیں اور 2021 میں بھی ان پر جہلم میں قاتلانہ حملہ ہو چکا ہے۔ اس سے قبل مذہبی بیانات اور اشتعال انگیزی کے خدشات کے پیش نظر انہیں ماضی میں حراست میں بھی لیا جاتا رہا ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -