-Advertisement-

ایران کے خلاف ٹرمپ کے سخت بیانات، امریکی وفد اہم مذاکرات کے لیے اسلام آباد پہنچ گیا

تازہ ترین

آسٹریا: بچوں کی خوراک میں چوہے مار زہر کی موجودگی پر مصنوعات واپس منگوا لی گئیں

آسٹریا میں بچوں کی خوراک بنانے والی معروف ڈچ کمپنی ہپ کی مصنوعات میں چوہے مار زہر پائے جانے...
-Advertisement-

واشنگٹن اور اسلام آباد کے درمیان جاری سفارتی ہلچل کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت انتباہ جاری کر دیا ہے۔ ٹرمپ نے الزام عائد کیا ہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز میں فائرنگ کرکے جنگ بندی معاہدے کی سنگین خلاف ورزی کی ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں امریکی صدر نے دعوی کیا کہ ایرانی فورسز نے ایک فرانسیسی جہاز اور برطانوی فریٹر کو نشانہ بنایا ہے جو سمندری نقل و حمل کے اہم راستے پر سکیورٹی کے سنگین خدشات پیدا کرتا ہے۔

امریکی صدر نے واضح کیا کہ واشنگٹن پہلے ہی خطے میں ناکہ بندی کر چکا ہے اور ایران کے اپنے اقدامات اس راستے کی بندش کا باعث بن رہے ہیں۔ ٹرمپ کے مطابق اس بندش سے ایران کو روزانہ 500 ملین ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے جبکہ امریکہ اپنی شپنگ کو ٹیکساس، لوزیانا اور الاسکا کی بندرگاہوں کی جانب منتقل کر کے معاشی اثرات سے محفوظ ہے۔ انہوں نے تہران کو تنبیہ کی کہ اگر مجوزہ معاہدہ قبول نہ کیا گیا تو امریکہ ایران کے انفراسٹرکچر، بشمول پاور پلانٹس اور پلوں کو نشانہ بنانے کے لیے فوجی کارروائی کر سکتا ہے۔

اس کشیدہ صورتحال کے تناظر میں اسلام آباد کو واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات کے اہم مرکز کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ وفاقی دارالحکومت میں سکیورٹی انتہائی سخت کر دی گئی ہے اور ریڈ زون کو ٹریفک کے لیے مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے۔ امریکی وفد کی آمد کے پیش نظر اسلام آباد میں انتظامات کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔ گزشتہ ہفتے ہونے والے مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے تھے، تاہم دونوں فریقین ایک نئے فریم ورک پر بات چیت جاری رکھنے کے خواہشمند ہیں۔

دوسری جانب ایرانی حکام نے مذاکرات کے حوالے سے محتاط رویہ اختیار کیا ہے۔ انطالیہ ڈپلومیسی فورم سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی نائب وزیر خارجہ سعید خطیب زادہ نے کہا کہ اگلے دور کے لیے کوئی تاریخ طے نہیں ہوئی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مذاکرات تب ہی آگے بڑھیں گے جب ایک باہمی مفاہمت کا فریم ورک طے پا جائے گا۔

ایرانی نائب وزیر خارجہ نے کہا کہ گزشتہ ملاقاتوں میں پیش رفت ضرور ہوئی تھی لیکن امریکی مطالبات اور جوہری پروگرام پر اختلاف اب بھی برقرار ہے۔ انہوں نے آبنائے ہرمز میں فائرنگ کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایران بین الاقوامی قوانین کے تحت تجارتی جہازوں کو محفوظ راستہ فراہم کر رہا ہے اور امریکہ معاہدے کی خلاف ورزی کر کے کشیدگی بڑھا رہا ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -