امریکی نائب صدر جے ڈی وینس آج منگل کے روز پاکستان کے دورے پر روانہ ہوں گے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق جے ڈی وینس پاکستان کے معیاری وقت کے مطابق دوپہر دو بجے واشنگٹن ڈی سی سے روانہ ہوں گے اور پاکستان پہنچنے سے قبل ایندھن بھرنے کے لیے کسی تیسرے ملک میں مختصر قیام کریں گے۔
اس دورے اور اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے دوسرے ممکنہ دور کی تیاریوں کے پیش نظر وفاقی دارالحکومت میں سیکیورٹی کے سخت ترین انتظامات کیے گئے ہیں۔ راولپنڈی اور اسلام آباد کی اہم شاہراہوں پر پولیس، رینجرز اور فرنٹیئر کور کے دستے تعینات کر دیے گئے ہیں۔ شہر کے مختلف مقامات پر سخت چیکنگ کا سلسلہ جاری ہے جبکہ ریڈ زون کی جانب جانے والے تمام راستوں کو مکمل طور پر سیل کر دیا گیا ہے۔
انتظامیہ نے جڑواں شہروں کے درمیان چلنے والی میٹرو بس سروس کو بھی تاحکم ثانی معطل کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر کئی تعلیمی اداروں کو اگلے ہفتے تک آن لائن کلاسز پر منتقل کر دیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ صدر ٹرمپ نے سات اپریل کو ایران کے ساتھ دو ہفتوں کے جنگ بندی معاہدے کا اعلان کیا تھا تاہم اس کی حتمی مدت کا تعین نہیں کیا گیا۔ صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں امید ظاہر کی ہے کہ ان کی انتظامیہ کا ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ سابق صدر باراک اوباما کے دور میں ہونے والے 2015 کے عالمی معاہدے سے کہیں بہتر ہوگا۔
واضح رہے کہ صدر ٹرمپ نے اپنے پہلے دور صدارت میں 2018 کے دوران اس معاہدے سے علیحدگی اختیار کر لی تھی جس کی کانگریس کے ریپبلکن ارکان اور اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے شدید مخالفت کی تھی۔ اگرچہ چند روزہ مذاکرات کے نتیجے میں کسی حتمی معاہدے کی نوعیت تاحال غیر واضح ہے تاہم امریکی صدر نے جلد نتائج کی توقع ظاہر کی ہے۔ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ وہ کسی بھی قسم کے دباؤ میں نہیں ہیں اور انہیں یقین ہے کہ تمام معاملات نسبتاً جلد طے پا جائیں گے۔
