خیبر پختونخوا اسمبلی کا اجلاس آج پشاور کرکٹ اسٹیڈیم میں طلب کر لیا گیا ہے، جس کے انعقاد پر اپوزیشن کی جانب سے سخت تنقید کی جا رہی ہے۔ دوپہر کے اوقات میں ہونے والے اس اجلاس کی صدارت اسپیکر بابر سلیم سواتی کریں گے۔ اجلاس کے ایجنڈے میں سوالات کا وقفہ اور قراردادوں کی منظوری شامل ہے۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے تحریک انصاف کے تمام اراکین اسمبلی کو اجلاس میں لازمی شرکت کی ہدایت کی ہے۔ دوسری جانب عوامی نیشنل پارٹی نے اسٹیڈیم میں اجلاس کے انعقاد کو ڈرامہ قرار دیتے ہوئے اس کا بائیکاٹ کرنے کا اعلان کیا ہے۔
اے این پی کے صوبائی صدر میاں افتخار حسین نے اپنے ردعمل میں کہا کہ صوبائی حکومت روزانہ ایک نیا ڈرامہ رچا رہی ہے اور ان کی جماعت اس ڈرامہ بازی کا حصہ نہیں بنے گی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اسمبلی اجلاس اسٹیڈیم میں بلانے کا کیا جواز ہے، جبکہ ماضی میں بھی اسمبلی کی کارروائی براہ راست ٹی وی پر نشر کی جاتی رہی ہے۔
اس غیر معمولی مقام پر اجلاس کے پیش نظر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ سی سی پی او پشاور ڈاکٹر میاں سعید کے مطابق سیکیورٹی کے فرائض کے لیے پانچ سو سے زائد پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔ سی سی پی او نے بتایا کہ وہ خود سیکیورٹی انتظامات کی نگرانی کریں گے جبکہ انسپکٹر جنرل آف پولیس بھی سیکیورٹی اقدامات کا جائزہ لینے کے لیے اسٹیڈیم کا دورہ کریں گے۔ روایتی عمارت سے باہر اسمبلی اجلاس کے انعقاد پر سیاسی حلقوں میں بحث جاری ہے۔
