اسپیس ایکس نے مصنوعی ذہانت کے ذریعے کوڈنگ تیار کرنے والے اسٹارٹ اپ کرسر کے حصول کے لیے معاہدے کا اعلان کیا ہے۔ اس معاہدے کے تحت اسپیس ایکس کے پاس رواں برس کے آخر تک 60 ارب ڈالر کے عوض کرسر کو خریدنے کا اختیار موجود ہوگا یا پھر وہ باہمی اشتراک کے لیے 10 ارب ڈالر کی ادائیگی کرے گی۔ کرسر کی بنیاد رکھنے والوں میں کراچی سے تعلق رکھنے والے صالح آصف بھی شامل ہیں۔
یہ پیش رفت اسپیس ایکس کی جانب سے مصنوعی ذہانت کے شعبے میں اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ اس اقدام سے اسپیس ایکس کی ذیلی کمپنی ایکس اے آئی کو، جو گروک چیٹ بوٹ تیار کرتی ہے، کوڈنگ مارکیٹ میں اپنے حریفوں کے مقابلے میں برتری حاصل ہوگی۔ اس کے بدلے میں کرسر کو اپنے اے آئی ماڈلز کی تیاری کے لیے اسپیس ایکس کے وسیع کمپیوٹنگ وسائل تک رسائی حاصل ہو سکے گی۔
اسپیس ایکس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا ہے کہ کرسر کی جدید ٹیکنالوجی اور ماہر سافٹ ویئر انجینئرز کا اسپیس ایکس کے طاقتور سپر کمپیوٹر کولوسس کے ساتھ ملاپ دنیا کے مفید ترین ماڈلز کی تیاری میں مددگار ثابت ہوگا۔ کولوسس میمفس میں واقع ایکس اے آئی کا سپر کمپیوٹر کلسٹر ہے جسے دنیا کا سب سے بڑا کمپیوٹر سمجھا جاتا ہے۔
یہ اہم اعلان اسپیس ایکس کی جانب سے اسٹاک مارکیٹ میں متوقع انٹری سے قبل سامنے آیا ہے۔ کمپنی کا ہدف تقریباً ایک اعشاریہ سات پانچ ٹریلین ڈالر کی ویلیو ایشن اور 75 ارب ڈالر کی فنڈ ریزنگ ہے جو تاریخ کی سب سے بڑی آئی پی او ہو سکتی ہے۔
کرسر کے شریک بانی صالح آصف کا تعلق پاکستان کے شہر کراچی سے ہے اور انہوں نے ایم آئی ٹی کے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر یہ ادارہ قائم کیا۔ صالح آصف نے 2016 سے 2018 تک انٹرنیشنل میتھ اولمپیاڈ میں پاکستان کی نمائندگی بھی کی تھی۔ اس سے قبل مارچ میں کرسر کے دو انجینئرنگ سربراہان اینڈریو ملیچ اور جیسن گنزبرگ بھی اسپیس ایکس میں شامل ہو چکے ہیں۔ ایلون مسک نے ان کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ ان کی شمولیت سے خلائی مراکز اور چاند پر ماس ڈرائیورز کی تنصیب کے منصوبوں میں مدد ملے گی۔
