ایکواڈور کی اعلیٰ ترین عدالت نے بدھ کے روز لاس چونیئرس گینگ کے ایک اعلیٰ کارندے کو امریکہ کے حوالے کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ ڈاریو پینا فیل عرف ٹوپو کو ستمبر میں ایکواڈور کے علاقے ایمیزون سے گرفتار کیا گیا تھا جہاں وہ مبینہ طور پر غیر قانونی کان کنی کے نیٹ ورک کو منظم کر رہا تھا۔
عدالتی بیان کے مطابق ملزم کو منشیات کی بڑے پیمانے پر سمگلنگ اور آتشیں اسلحہ کے استعمال کے الزامات کا سامنا کرنے کے لیے امریکہ کے حوالے کیا جا رہا ہے۔ نیویارک کی ایک عدالت کو اس شخص کی تلاش تھی۔ حکام کا کہنا ہے کہ ٹوپو کے تعلقات کولمبیا کے فارک گوریلا گروپ کے منحرف دھڑے سے بھی رہے ہیں۔
پینا فیل اس سے قبل ایکواڈور میں اغوا اور مجرمانہ سازش کے مقدمات میں قید کاٹ چکا ہے، جبکہ ایک پولیس افسر کے قتل کا مقدمہ بھی اس کے خلاف درج کیا گیا تھا جسے بعد ازاں خارج کر دیا گیا تھا۔ مقامی میڈیا کے مطابق پینا فیل نے گواکویل جیل میں گینگ کے سرغنہ ایڈولفو ماسیاس عرف فیٹو کے ساتھ وقت گزارا اور رہائی کے بعد اس کے لیے غیر قانونی سونے کی کان کنی کے دھندے میں کام شروع کیا۔
ایڈولفو ماسیاس کو رواں برس جون میں ایک بڑے آپریشن کے بعد دوبارہ گرفتار کیا گیا تھا اور صدر ڈینیئل نوبوا کی انسداد جرائم مہم کے تحت امریکہ کے حوالے کر دیا گیا تھا۔ ماسیاس پر نیویارک میں ہزاروں پاؤنڈ کوکین امریکہ سمگل کرنے کے الزامات ہیں جن میں اس نے صحت جرم سے انکار کیا ہے۔
ایکواڈور میں منشیات کے نیٹ ورکس کو توڑنے کے لیے امریکی کمانڈوز اور ایکواڈور کی فوج مشترکہ کارروائیوں میں مصروف ہے۔ حال ہی میں لانزا مارینا نامی آپریشن کے ذریعے ساحلی علاقے میں قائم ایک ٹھکانے کو نشانہ بنایا گیا جو لاس چونیئرس گینگ کے لیے تیز رفتار کشتیوں کے اڈے کے طور پر استعمال ہوتا تھا۔
امریکی حکام کے مطابق ان کی افواج ایکواڈور کے دستوں کو مشاورتی معاونت فراہم کر رہی ہیں تاکہ سمندری راستوں سے ہونے والی منشیات کی سمگلنگ کو روکا جا سکے۔ واضح رہے کہ ایکواڈور کی حکومت نے لاس چونیئرس سمیت بیس مجرمانہ گروہوں کو دہشت گرد تنظیم قرار دے رکھا ہے۔
