-Advertisement-

ایف پی سی سی آئی آئندہ ہفتے مالی سال 27-2026 کے لیے شیڈو بجٹ پیش کرے گی

تازہ ترین

ایران کے ساتھ اعتماد کی بحالی میں طویل عرصہ لگے گا، متحدہ عرب امارات

متحدہ عرب امارات کے صدارتی مشیر انور گرگاش نے کہا ہے کہ تہران اور ابوظہبی کے مابین اعتماد کی...
-Advertisement-

فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر عاطف اکرام شیخ نے اعلان کیا ہے کہ ایف پی سی سی آئی مالی سال 2026-27 کے لیے اپنا شیڈو بجٹ اگلے ہفتے پیش کرے گی۔ یہ دستاویز کاروبار دوست اور ترقیاتی پالیسیوں پر مبنی ہوگی۔

عاطف اکرام شیخ نے وضاحت کی کہ یہ متبادل مالیاتی دستاویز وفاقی حکومت کو ایک حقیقت پسندانہ اور معاشی ترقی کا فریم ورک فراہم کرے گی۔ اس کا مقصد ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا ہے، نہ کہ پہلے سے ٹیکس دینے والے دیانتدار تاجروں پر مزید مالی بوجھ ڈالنا۔ انہوں نے ٹیکس نظام کو آسان بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

ایف پی سی سی آئی کے سربراہ نے کہا کہ موجودہ معاشی منصوبہ بندی میں تبدیلی ناگزیر ہے۔ ٹیکس دہندگان کے محدود دائرہ کار پر انحصار ملکی صنعت کے لیے تباہ کن ہے۔ شیڈو بجٹ محض تنقید نہیں بلکہ ایک تحقیق شدہ متبادل لائحہ عمل ہے، جس کے ذریعے ایف بی آر اپنی محصولات کے اہداف کو غیر دستاویزی معیشت کو ٹیکس نیٹ میں لا کر پورا کر سکتا ہے۔

ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگون نے کہا کہ دستاویز میں ساختی اصلاحات پر توجہ دی گئی ہے۔ موجودہ کاروباری طبقہ بھاری کارپوریٹ ٹیکسوں اور پالیسیوں میں غیر یقینی صورتحال کے باعث دباؤ کا شکار ہے۔ ان کی تجاویز میں ٹیکس کی شرحوں میں کمی، عقلی تعین اور نظام کی تکنیکی خامیوں کو دور کرنے کے اقدامات شامل ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس کا مقصد سرمایہ کاری کے انخلا کو روکنا اور صنعتی تنزلی کو معکوس کرنا ہے۔

ایف پی سی سی آئی کے نائب صدر اور ریجنل چیئرمین سندھ عبدالمنعم خان نے کہا کہ سندھ اور کراچی کی صنعتیں کاروبار کی بلند لاگت اور ٹیکسوں کے بھاری بوجھ تلے دبی ہوئی ہیں۔ شیڈو بجٹ ایک مسابقتی اور منصفانہ کاروباری ماحول کے قیام کے لیے ٹھوس فریم ورک فراہم کرے گا، لہذا حکومت کو ٹیکس اقدامات کو حتمی شکل دینے سے پہلے ان تجاویز کا جائزہ لینا چاہیے۔

ایف پی سی سی آئی کی قیادت نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے محصولات کی کمی پوری کرنے کے لیے موجودہ فائلرز کو مزید نشانہ بنایا تو اسے مسترد کر دیا جائے گا۔ ایسی پالیسی معاشی سکڑاؤ، برآمدات میں کمی اور بے روزگاری میں اضافے کا سبب بنے گی۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -