-Advertisement-

اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کا پروسٹیٹ کینسر کے کامیاب علاج کا دعویٰ

تازہ ترین

ایران کے ساتھ اعتماد کی بحالی میں طویل عرصہ لگے گا، متحدہ عرب امارات

متحدہ عرب امارات کے صدارتی مشیر انور گرگاش نے کہا ہے کہ تہران اور ابوظہبی کے مابین اعتماد کی...
-Advertisement-

اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے انکشاف کیا ہے کہ وہ پروسٹیٹ کینسر کے ابتدائی مرحلے کے علاج سے گزر چکے ہیں اور اب وہ مکمل طور پر صحت یاب ہیں۔

چھہتر سالہ نیتن یاہو نے اپنے سالانہ طبی رپورٹ کے اجراء کے موقع پر سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ معمول کے طبی معائنے کے دوران کینسر کے ایک ابتدائی ٹیومر کی تشخیص ہوئی تھی۔

وزیراعظم کے مطابق ٹارگٹڈ تھراپی کے ذریعے اس مسئلے کو جڑ سے ختم کر دیا گیا ہے اور اب جسم میں اس کا کوئی نشان باقی نہیں بچا۔ طبی رپورٹ کے مطابق ان کا علاج ریڈی ایشن تھراپی کے ذریعے کیا گیا ہے۔

تاہم نیتن یاہو اور جاری کردہ طبی رپورٹ میں اس بات کی وضاحت نہیں کی گئی کہ یہ علاج کب کیا گیا تھا۔ رپورٹ میں مجموعی طور پر وزیراعظم کی صحت کو تسلی بخش قرار دیا گیا ہے۔

اسرائیل کے طویل عرصے تک وزیراعظم رہنے والے نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنی طبی رپورٹ جاری کرنے میں دو ماہ کی تاخیر اس لیے کی تاکہ ایران کو اسرائیل کے خلاف غلط پروپیگنڈا کرنے کا موقع نہ ملے۔

رواں برس مارچ میں ایران اور اسرائیل کے مابین کشیدگی کے دوران سوشل میڈیا اور ایرانی سرکاری میڈیا پر نیتن یاہو کی موت کی افواہیں گردش کر رہی تھیں۔ ان افواہوں کی تردید کے لیے اسرائیلی رہنما نے یروشلم کے ایک کیفے کے دورے کی ویڈیو جاری کی تھی۔

یاد رہے کہ نیتن یاہو اس سے قبل بھی طبی مسائل کا شکار رہے ہیں۔ سن دو ہزار چوبیس میں پروسٹیٹ کے بڑھ جانے کے باعث ہونے والے انفیکشن کی سرجری کی گئی تھی، جبکہ دو ہزار تئیس میں انہیں پیس میکر لگایا گیا تھا۔

اسرائیل میں آئندہ عام انتخابات اکتوبر تک متوقع ہیں۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -