-Advertisement-

خیبر پختونخوا کے ساتھ امتیازی سلوک، وزیراعلیٰ کا وفاق سے بائیکاٹ کا عندیہ

تازہ ترین

ایران کے ساتھ اعتماد کی بحالی میں طویل عرصہ لگے گا، متحدہ عرب امارات

متحدہ عرب امارات کے صدارتی مشیر انور گرگاش نے کہا ہے کہ تہران اور ابوظہبی کے مابین اعتماد کی...
-Advertisement-

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ ان کی حکومت نے سیاسی مفادات پر قومی مفاد کو ترجیح دی ہے اور ذمہ دارانہ سیاسی طرز عمل کا مظاہرہ کیا ہے۔ پشاور میں کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کو امن اور مذاکرات کے فروغ میں کردار ادا کرنے پر عالمی سطح پر پذیرائی ملی ہے اور عمران خان گزشتہ 24 برسوں سے اسی پالیسی کے حامی رہے ہیں۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ عمران خان کا ہمیشہ سے یہ موقف رہا ہے کہ جنگ اور فوجی آپریشن مسائل کا حل نہیں ہیں بلکہ مذاکرات اور امن کو ترجیح دی جانی چاہیے۔ انہوں نے بتایا کہ 9 اپریل کو شیڈول عوامی اجتماع بھی قومی مفاد میں ملتوی کیا گیا تھا۔

وزیر اعلیٰ نے وفاقی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت نے ملکی مفاد کے لیے وفاقی اجلاسوں میں شرکت کر کے اپنا سیاسی سرمایہ داؤ پر لگایا، جبکہ موجودہ قیادت ذاتی مفادات کو ترجیح دے رہی ہے۔ انہوں نے پاکستان تحریک انصاف کے خلاف سیاسی انتقامی کارروائیوں، لاٹھی چارج، شیلنگ اور پرائیویسی کے حقوق کی خلاف ورزیوں کا الزام عائد کیا۔

سہیل آفریدی نے عمران خان کے اہل خانہ کے ساتھ مبینہ بدسلوکی اور بشریٰ بی بی سے ملاقاتوں پر پابندیوں پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے عدالتی سماعتوں میں تاخیر اور انصاف کی فراہمی میں حائل رکاوٹوں پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر امتیازی سلوک کا سلسلہ جاری رہا تو تمام سیاسی سمجھوتوں کا خاتمہ ہو سکتا ہے اور وفاقی حکومت کے ساتھ عدم تعاون کا راستہ اختیار کیا جا سکتا ہے۔

ترقیاتی امور پر بات کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ مالی سال 26-2027 کے سالانہ ترقیاتی پروگرام کی تیاری آخری مراحل میں ہے۔ انہوں نے ترقیاتی منصوبہ بندی میں عوامی شرکت کو اپنی حکومت کی اولین ترجیح قرار دیا۔

سہیل آفریدی نے اعلان کیا کہ شہریوں کو سڑکوں، ٹیوب ویلز، ہسپتالوں اور دیگر بنیادی سہولیات پر تجاویز دینے کی دعوت دی جائے گی۔ اس مقصد کے لیے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کا استعمال کیا جائے گا اور عوامی آراء کے لیے فیڈبک پورٹل 4 مئی سے 8 مئی تک کھلا رہے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ موثر نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے عوامی تجاویز کو سالانہ ترقیاتی پروگرام کا حصہ بنایا جائے گا۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -