-Advertisement-

صومالیہ کے ساحل پر بحری قزاقوں کا تیل بردار جہاز پر قبضہ، 11 پاکستانی مغوی

تازہ ترین

ایران کے ساتھ اعتماد کی بحالی میں طویل عرصہ لگے گا، متحدہ عرب امارات

متحدہ عرب امارات کے صدارتی مشیر انور گرگاش نے کہا ہے کہ تہران اور ابوظہبی کے مابین اعتماد کی...
-Advertisement-

صومالیہ کے ساحل کے قریب بحری قزاقوں نے تیل بردار جہاز کو اغوا کر کے عملے کو یرغمال بنا لیا ہے جس میں 11 پاکستانی ملاح بھی شامل ہیں۔ اس واقعے نے دنیا کے حساس ترین تجارتی سمندری راستوں پر سکیورٹی خدشات کو دوبارہ تازہ کر دیا ہے۔

شپنگ ذرائع کے مطابق 21 اپریل کو مسلح قزاقوں نے اونر 25 نامی بحری جہاز پر حملہ کیا۔ مختصر مزاحمت کے بعد حملہ آور جہاز پر قابض ہو گئے اور اسے کسی نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا ہے جو مبینہ طور پر قزاقوں کے زیر اثر علاقہ ہے۔

اغوا ہونے والے عملے میں 11 پاکستانی شہری موجود ہیں۔ متاثرہ خاندانوں نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں اپنے پیاروں کی خیریت یا مقام کے بارے میں تاحال کوئی سرکاری اطلاع نہیں ملی ہے۔

پاکستان کے میری ٹائم سیکٹر کے ذرائع کا کہنا ہے کہ وزارت بحری امور کے ماتحت کام کرنے والے ڈائریکٹوریٹ جنرل آف پورٹس اینڈ شپنگ اب تک عملے سے رابطہ قائم کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ جہاز کو آپریٹ کرنے والی کمپنی کی جانب سے بھی کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا جس سے مغویوں کے لواحقین کی پریشانی میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔

اطلاعات کے مطابق عملے کی رہائی کے لیے مذاکرات کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے اور کچھ بین الاقوامی میری ٹائم چینلز قزاقوں کے ساتھ رابطے میں ہیں تاہم کسی پیش رفت یا تاوان کے مطالبے کی سرکاری تصدیق نہیں ہوئی ہے۔

پاکستانی ملاحوں کے اہل خانہ نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری اقدامات کرتے ہوئے سفارتی اور میری ٹائم معاونت فراہم کرے تاکہ ان کے پیاروں کی بحفاظت بازیابی ممکن ہو سکے۔

صومالیہ کے ساحل کے قریب بحری قزاقی کے واقعات میں گزشتہ برسوں کے دوران نمایاں کمی آئی تھی تاہم خلیج عدن اور ملحقہ سمندری راستوں پر وقفے وقفے سے ہونے والے حملے تجارتی جہاز رانی کے لیے مسلسل خطرہ بنے ہوئے ہیں۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -