پاکستان نے خلائی ٹیکنالوجی کے میدان میں ایک اور اہم سنگ میل عبور کر لیا ہے۔ چین کے صوبے شانشی میں واقع تائیوان سیٹلائٹ لانچ سینٹر سے پاکستان کے ریموٹ سینسنگ سیٹلائٹ پی آر ایس سی-ای او 3 کو کامیابی کے ساتھ خلا میں روانہ کر دیا گیا ہے۔ یہ سیٹلائٹ لانگ مارچ 6 راکٹ کے ذریعے رات 8 بج کر 15 منٹ پر خلا میں بھیجا گیا جو کامیابی کے ساتھ اپنے مقررہ مدار میں پہنچ چکا ہے۔
یہ لانگ مارچ راکٹ سیریز کا 640 واں مشن ہے جو چین کے خلائی پروگرام کا اہم حصہ ہے۔ دفتر خارجہ کے مطابق سپارکو کا تیار کردہ یہ الیکٹرو آپٹیکل سیٹلائٹ جدید تجرباتی آلات سے لیس ہے جن میں ملٹی جیومیٹری امیجنگ ماڈیول، توانائی ذخیرہ کرنے کا جدید نظام اور مصنوعی ذہانت پر مبنی ڈیٹا پروسیسنگ یونٹ شامل ہیں۔ یہ ٹیکنالوجی ریئل ٹائم تجزیے اور فیصلہ سازی میں معاون ثابت ہوگی۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ یہ سیٹلائٹ اربن پلاننگ، ڈیزاسٹر مینجمنٹ، غذائی تحفظ اور ماحولیاتی تحفظ کے شعبوں میں انقلاب برپا کرے گا۔ اس کی شمولیت سے پاکستان کی ریموٹ سینسنگ کی صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ ہوگا اور سماجی و اقتصادی ترقی کے اہداف کو حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔
صدر آصف علی زرداری نے اس کامیابی کو ملکی خود انحصاری اور سائنسی مہارت کا منہ بولتا ثبوت قرار دیا ہے۔ انہوں نے سپارکو کے سائنسدانوں اور انجینئرز کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے خلائی ٹیکنالوجی میں چین کے قابل اعتماد تعاون کی تعریف کی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے بھی اس کامیابی پر سپارکو کی ٹیم کو مبارکباد پیش کی ہے۔ انہوں نے پاکستان کے خلائی پروگرام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے اس شعبے میں چین کی مسلسل معاونت کو سراہا۔ حکام کے مطابق ای او 3 سیٹلائٹ ایک جامع ارتھ آبزرویشن سسٹم کی بنیاد بنے گا جو قومی ترجیحات اور پائیدار ترقی کے سفر میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔
