امریکی ریاست جارجیا کے شہر اٹلانٹا میں بجلی کے ہوشربا بلوں نے شہریوں کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔ کیرولن کین نامی خاتون نے سی بی ایس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران ان کے بجلی کے بل دگنے ہو چکے ہیں جس کے باعث انہیں سردی سے بچنے کے لیے گھر کے اندر اسکی سوٹ پہن کر رہنا پڑتا ہے۔ بڑھتے ہوئے اخراجات کو پورا کرنے کے لیے انہوں نے اپنے گھر کے بیشتر حصوں میں ہیٹر اور پانی کی فراہمی بند کر دی ہے اور اب وہ محض گھر کے عقبی حصے میں بنے ایک چھوٹے سے کمرے تک محدود ہو کر رہ گئی ہیں۔
جارجینز فار افورڈایبل انرجی نامی تنظیم کی بانی پیٹی ڈیورینڈ کا کہنا ہے کہ کیرولن کین کا مسئلہ کوئی انفرادی معاملہ نہیں ہے۔ ان کے مطابق اوسط صارف کا بجلی کا بل جو پہلے ڈیڑھ سو ڈالر ماہانہ ہوا کرتا تھا اب بڑھ کر 225 ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔ سی بی ایس نیوز کے ایک تجزیے کے مطابق ریاست کے سب سے بڑے توانائی فراہم کنندہ جارجیا پاور نے گزشتہ تین برسوں کے دوران نرخوں میں چھ بار اضافہ کیا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس اضافے کی ایک بڑی وجہ ریاست میں ڈیٹا سینٹرز کا تیزی سے پھیلاؤ اور مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال کے لیے درکار بجلی کی طلب ہے۔ انسٹیٹیوٹ فار انرجی اکنامکس اینڈ فنانشل اینالیسس کی رپورٹ کے مطابق امریکہ کی کم از کم 13 ریاستوں میں ڈیٹا سینٹرز کے قیام کی وجہ سے بجلی کے بلوں میں اضافہ ہوا ہے۔ بلومبرگ کے 2025 کے تجزیے کے مطابق جن علاقوں میں ڈیٹا سینٹرز موجود ہیں وہاں کے رہائشیوں کے بجلی کے بل پانچ سال قبل کی نسبت 267 فیصد تک زیادہ ہو چکے ہیں۔
اس صورتحال کے پیش نظر ریاست مین کی گورنر جینیٹ ملز نے حال ہی میں ایک ایسے بل کو ویٹو کر دیا ہے جس کا مقصد نئے ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر پر پابندی عائد کرنا تھا۔ گورنر ملز کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے پھیلاؤ کے تناظر میں بڑے پیمانے پر ڈیٹا سینٹرز کے ممکنہ اثرات کا جائزہ لینا انتہائی ضروری ہے۔
دوسری جانب جارجیا پاور کے اسٹریٹجک گروتھ کے سینئر نائب صدر آرون مچل نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ رہائشی صارفین پر ڈیٹا سینٹرز کے اخراجات کا بوجھ نہیں ڈالا جا رہا۔ کمپنی نے حال ہی میں نرخوں میں منجمد کرنے کا اعلان کیا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ بڑے صارفین سے حاصل ہونے والی آمدنی کو رہائشی صارفین کے بلوں میں کمی کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ تاہم کیرولن کین جیسے متاثرین کے لیے یہ اقدامات بہت دیر سے اٹھائے گئے ہیں، جن کا کہنا ہے کہ اب شاید انہیں اپنا گھر چھوڑنے کے سوا کوئی چارہ نہیں بچا۔
