-Advertisement-

پاکستان نے ایران کے ساتھ تجارت کے لیے نئے ٹرانزٹ کوریڈورز کی منظوری دے دی

تازہ ترین

انڈونیشیا: معدومی کے خطرے سے دوچار اورنگوٹان کا سڑک پار کرنے کے لیے انسانی ساختہ پل کا استعمال

انڈونیشیا کے جزیرے سماٹرا میں پہلی بار ایک سوماتران اورنگوٹان کو عوامی سڑک عبور کرنے کے لیے انسانوں کے...
-Advertisement-

حکومت پاکستان نے خطے میں تجارتی روابط کو فروغ دینے اور معاشی سرگرمیوں میں تیزی لانے کے لیے ایران کے ساتھ تجارت کے لیے نئے ٹرانزٹ کوریڈورز کی منظوری دے دی ہے۔ اس اقدام کا باقاعدہ نوٹیفکیشن وزارت تجارت کی جانب سے جاری کیا گیا ہے جس پر جوائنٹ سیکریٹری ایف ٹی ٹو ماریہ قاضی کے دستخط موجود ہیں۔ ٹرانزٹ آف گڈز تھرو ٹیریٹری آف پاکستان آرڈر 2026 کے تحت یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ ٹی آئی آر کنونشن کے فریم ورک کے مطابق پاکستان کے راستے ایران تک درآمدی اور برآمدی اشیاء بشمول تھرڈ کنٹری کارگو کی نقل و حمل کی اجازت ہوگی۔

نئے حکم نامے کے تحت کئی اہم ٹرانزٹ روٹس کا تعین کیا گیا ہے جن میں گوادر گبد، کراچی پورٹ قاسم لیاری اورماڑہ پسنی گبد، کراچی پورٹ قاسم خضدار دالبندین تفتان، اور گوادر تربت ہوشاب پنجگور ناگ بسیمہ خضدار کوئٹہ دالبندین نوشکی تفتان سمیت دیگر راستے شامل ہیں۔ اس پیش رفت سے پاکستان ایک علاقائی تجارتی مرکز کے طور پر ابھرے گا اور تیسرے ممالک کا سامان ان کوریڈورز کے ذریعے ایران تک پہنچ سکے گا۔

کوئٹہ کے تاجر برادری نے اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے دیرینہ مطالبے کی منظوری قرار دیا ہے۔ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کوئٹہ کے صدر حاجی محمد ایوب مریانی اور دیگر عہدیداروں کا کہنا ہے کہ یہ کامیابی وفاقی حکام کے ساتھ مسلسل رابطوں کا نتیجہ ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ نئے کوریڈورز سے بلوچستان میں روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور پاک ایران تجارت کا حجم بڑھے گا۔

چیمبر کے مطابق اس اقدام سے پاکستان کی جیو اکنامک اہمیت میں اضافہ ہوگا اور ٹرانزٹ فیس، پورٹ ہینڈلنگ اور لاجسٹک خدمات کی مد میں قیمتی زرمبادلہ حاصل ہوگا۔ اس کے علاوہ گوادر پورٹ اور دیگر بنیادی ڈھانچے کا بہتر استعمال بھی ممکن ہو سکے گا۔ سرکاری حکام نے واضح کیا ہے کہ اس فیصلے سے مقامی صنعتوں پر کوئی بوجھ نہیں پڑے گا بلکہ اس سے تجارتی سہولت کاری اور علاقائی انضمام کو فروغ ملے گا۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -