-Advertisement-

ایران جوہری معاہدے کے لیے سنجیدہ ہے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو

تازہ ترین

انڈونیشیا: معدومی کے خطرے سے دوچار اورنگوٹان کا سڑک پار کرنے کے لیے انسانی ساختہ پل کا استعمال

انڈونیشیا کے جزیرے سماٹرا میں پہلی بار ایک سوماتران اورنگوٹان کو عوامی سڑک عبور کرنے کے لیے انسانوں کے...
-Advertisement-

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران امریکا کے ساتھ معاہدے کے لیے سنجیدہ دکھائی دیتا ہے تاہم کسی بھی سمجھوتے کی بنیادی شرط یہ ہوگی کہ ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے حتمی طور پر روکا جائے۔

فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے مارکو روبیو نے کہا کہ ایران اپنی موجودہ معاشی دلدل سے نکلنے کے لیے کوشاں ہے۔ انہوں نے تہران میں بڑھتی ہوئی افراط زر اور تنخواہوں کی ادائیگی میں مشکلات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایران کو درپیش پرانے مسائل بدستور برقرار ہیں بلکہ ان میں مزید شدت آئی ہے۔

روبیو کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران نے آبنائے ہرمز کو کھولنے کے بدلے امریکا سے ناکہ بندی ختم کرنے اور جنگ بندی کی پیشکش کی ہے، جبکہ جوہری پروگرام پر مذاکرات کو مؤخر کرنے کا عندیہ دیا ہے۔

آبنائے ہرمز کے حوالے سے ایران کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران یہ تاثر دے رہا ہے کہ آبنائے کھلی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ عالمی جہاز رانی ان کی اجازت اور بھتے کی ادائیگی سے مشروط ہو۔ انہوں نے خبردار کیا کہ امریکا بین الاقوامی آبی گزرگاہوں کو یرغمال بنانے کی کسی بھی کوشش کو برداشت نہیں کرے گا۔

ایران اور امریکا کے درمیان ۱۱ اپریل کو اسلام آباد میں مذاکرات ہوئے تھے جو ۲۸ فروری سے جاری جنگ کے خاتمے پر کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے۔ یہ مذاکرات پاکستان کی ثالثی میں ہونے والی دو ہفتہ وار جنگ بندی کے بعد شروع ہوئے تھے جسے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے توسیع دی تھی۔

صدر ٹرمپ نے اس ہفتے کے آخر میں اپنے خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کا دورہ پاکستان بھی منسوخ کر دیا ہے۔ فی الحال فریقین کے درمیان آبنائے ہرمز کی صورتحال، ایرانی بندرگاہوں پر امریکی ناکہ بندی اور جوہری پروگرام کے مستقبل پر ڈیڈ لاک برقرار ہے۔

وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیوٹ نے تصدیق کی ہے کہ صدر ٹرمپ نے قومی سلامتی کے مشیروں کے ساتھ ایران کی نئی تجویز پر مشاورت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ کا موقف واضح ہے کہ عالمی تیل کی ترسیل کے لیے آبنائے ہرمز کا ہر صورت کھلا رہنا ضروری ہے اور ایران کو اپنا افزودہ یورینیم حوالے کرنا ہوگا۔

عالمی منڈی میں تیل کی کل سپلائی کا تقریباً بیس فیصد حصہ آبنائے ہرمز کے ذریعے گزرتا ہے، جس کے باعث خطے میں کشیدگی سے تیل کی قیمتوں اور انشورنس کے اخراجات میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -