-Advertisement-

پاکستان کا دنیا بھر میں قدرتی آفات کے متاثرین سے اظہارِ یکجہتی، وزیراعظم کا عالمی تعاون پر زور

تازہ ترین

یورپ میں ریکارڈ توڑ گرمی اور گلیشیئرز پگھلنے سے ماحولیاتی بحران شدت اختیار کر گیا

یورپ میں سن دو ہزار پچیس کے دوران ریکارڈ توڑ گرمی کی لہروں، گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے اور...
-Advertisement-

وزیر اعظم شہباز شریف نے قدرتی آفات بالخصوص زلزلوں سے نمٹنے کے لیے قومی تیاریوں کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان دنیا بھر میں قدرتی آفات سے متاثرہ برادریوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔

وزیراعظم ہاؤس سے جاری بیان کے مطابق اقوام متحدہ کی جانب سے اس دن کا انعقاد جہاں ان قیمتی جانوں کو خراج تحسین پیش کرنے کا موقع ہے جو قدرتی آفات کی نذر ہوئیں، وہیں یہ عالمی سطح پر تعاون کو بڑھانے کا ایک اہم پیغام بھی ہے۔

وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ آفات کے تباہ کن اثرات کو کم کرنے کے لیے بہتر انفراسٹرکچر، جامع منصوبہ بندی اور عوامی آگاہی ناگزیر ہے۔ انہوں نے تعمیراتی شعبے میں حفاظتی معیارات کو یقینی بنانے اور ابتدائی انتباہی ٹیکنالوجی کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

سن دو ہزار پانچ کے کشمیر زلزلے کا ذکر کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ اس سانحے میں اسی ہزار سے زائد افراد جاں بحق اور تقریباً تیس لاکھ لوگ بے گھر ہوئے تھے۔ انہوں نے اس واقعے کو ملکی تاریخ کا ایک اہم موڑ قرار دیتے ہوئے مشکل وقت میں پاکستانی قوم کے عزم اور اتحاد کو سراہا۔

وزیراعظم نے بتایا کہ اس سانحے کے بعد پاکستان نے ادارہ جاتی اصلاحات متعارف کرائیں جن میں نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کا قیام شامل ہے تاکہ ہنگامی صورتحال میں مربوط ردعمل کو یقینی بنایا جا سکے۔ این ڈی ایم اے اب جیو اسپیشل ٹیکنالوجیز اور تاریخی اعداد و شمار کی مدد سے ہائی رسک علاقوں کی نشاندہی کر رہی ہے۔

پاکستان عالمی فریم ورک بشمول اقوام متحدہ کے ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن اور سینڈائی فریم ورک برائے انسداد آفات کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہماری قومی ترجیحات میں مقامی سطح پر جوابی صلاحیت کو مضبوط بنانا، پاکستان اسکول سیفٹی فریم ورک کے تحت تعلیمی نصاب میں آفات سے بچاؤ کی تعلیم شامل کرنا اور سیٹلائٹ ماڈلنگ کا دائرہ کار بڑھانا شامل ہے۔

شہباز شریف نے عالمی برادری پر زور دیا کہ ایک محفوظ اور لچکدار مستقبل کی تعمیر کے لیے اجتماعی کوششوں کو تیز کیا جائے اور ابتدائی انتباہی نظام تک منصفانہ رسائی کو یقینی بنایا جائے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -