ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی میں نجی گاڑی کو روکنے پر پولیس افسر کے بیٹے اور سب انسپکٹر کے درمیان تلخ کلامی اور ہاتھا پائی کا واقعہ پیش آیا ہے، جس کے بعد حکام نے واقعے کی باضابطہ تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔
یہ واقعہ جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب فیز سیون میں اس وقت پیش آیا جب پولیس نے اسنیپ چیکنگ کے دوران ایک ڈبل کیبن گاڑی کو روکا جس پر پولیس کی طرز کی لائٹس لگی ہوئی تھیں اور مبینہ طور پر جعلی نمبر پلیٹ آویزاں تھی۔ گاڑی ڈرائیو کرنے والے شخص کی شناخت ایس ایس پی نسیم آرا پنہور کے بیٹے خبیب کے طور پر ہوئی، جس کی سب انسپکٹر قیوم آباد پولیس پوسٹ شہزیب شکیل کے ساتھ سخت کلامی ہوئی۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ صورتحال تیزی سے کشیدہ ہوئی۔ ایک ویڈیو میں پولیس افسر کو نوجوان پر بدتمیزی کرنے اور گریبان پکڑنے کا الزام عائد کرتے ہوئے سنا جا سکتا ہے، جبکہ دوسری جانب نوجوان کی جانب سے بنائی گئی ویڈیو میں پولیس افسر کو یہ کہتے ہوئے سنا گیا کہ ایس ایس پی کا بیٹا ہونے سے کیا فرق پڑتا ہے، میں بھی کسی کا بیٹا ہوں۔
پولیس نے مقدمہ درج کر کے خبیب کو سرکاری فرائض میں رکاوٹ ڈالنے، جعل سازی، جعلی نمبر پلیٹ کے استعمال اور بدسلوکی کے الزامات کے تحت گرفتار کر لیا ہے۔ ایف آئی آر کے مطابق ملزم نے اپنی شناخت چھپانے کی کوشش کی اور اپنے ساتھ موجود مسلح محافظوں کو پولیس افسر کو ہٹانے کا حکم دیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ گاڑی پر غیر قانونی لائٹس لگی ہوئی تھیں اور شیشے بھی کالے تھے۔
دوسری جانب ملزم کے والد علی انور نے موقف اختیار کیا ہے کہ واقعے کے بعد وہ اور ان کی اہلیہ تھانے گئے تھے جہاں متعلقہ افسر نے معافی مانگ لی تھی۔ ان کا دعویٰ ہے کہ ان کا خاندان مکمل تعاون کر رہا تھا اور گاڑی بھی حوالے کر دی گئی تھی، تاہم ویڈیو وائرل ہونے کے بعد صورتحال یکسر تبدیل ہو گئی۔
پولیس حکام نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ایس ایس پی ساؤتھ کی جانب سے انکوائری کا حکم دیا ہے اور ایس پی کلفٹن خالد جاوید کو تفتیشی افسر مقرر کیا ہے۔ تحقیقاتی ٹیم ملوث تمام افراد کے کردار اور پولیس اہلکاروں کے رویے کا بھی جائزہ لے گی۔
