-Advertisement-

پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں اپریل کے دوران 42 فیصد کمی

تازہ ترین

خیبر پختونخوا میں پولیو کے دو نئے کیسز کی تصدیق، ملک بھر میں تعداد تین ہو گئی

نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر نے خیبر پختونخوا میں پولیو کے دو نئے کیسز کی تصدیق کر دی ہے جس...
-Advertisement-

پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کنفلکٹ اینڈ سکیورٹی اسٹڈیز (PICSS) کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق اپریل 2026 میں ملک بھر میں سکیورٹی کی صورتحال میں مسلسل دوسرے ماہ بہتری دیکھی گئی ہے جس کے دوران دہشت گردانہ کارروائیوں اور ان کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق اپریل کے مہینے میں دہشت گردی کے 85 تصدیق شدہ واقعات پیش آئے جو مارچ کے 146 واقعات کے مقابلے میں 42 فیصد کم ہیں۔ اسی طرح ان حملوں میں ہلاکتوں کی تعداد 106 سے کم ہو کر 60 رہ گئی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ سکیورٹی میں یہ بہتری 26 فروری سے 18 مارچ کے درمیان کی گئی فوجی کارروائیوں کا نتیجہ ہے جن کا آغاز افغان طالبان کی جانب سے بلا اشتعال فائرنگ کے بعد آپریشن غضب الحق کی صورت میں کیا گیا تھا۔ بعد ازاں یہ کشیدگی ختم کر کے چین کے شہر ارمچی میں مذاکرات کا سلسلہ شروع کیا گیا۔

اگرچہ حملوں میں کمی آئی ہے تاہم اپریل میں مجموعی طور پر تصادم کے نتیجے میں 291 افراد جان کی بازی ہار گئے۔ ان ہلاکتوں میں 224 دہشت گرد شامل ہیں جو مجموعی تعداد کا 77 فیصد بنتے ہیں۔ بقیہ ہلاکتوں میں 28 سکیورٹی اہلکار، 37 شہری اور حکومت نواز امن کمیٹیوں کے دو ارکان شامل ہیں۔

سکیورٹی فورسز کے نقصانات میں مارچ کے مقابلے میں 53 فیصد کمی دیکھی گئی اور یہ تعداد 59 سے کم ہو کر 28 رہ گئی۔ اسی طرح شہریوں کی ہلاکتوں میں بھی معمولی بہتری دیکھی گئی جو 39 سے کم ہو کر 37 ہو گئیں۔

زخمیوں کی تعداد میں بھی 38 فیصد کمی واقع ہوئی جو 210 سے کم ہو کر 131 رہ گئی۔ شہریوں کے زخمی ہونے کے واقعات 98 سے 54 اور دہشت گردوں کے 57 سے 31 تک آ گئے۔ سکیورٹی فورسز کے زخمیوں کی تعداد 48 سے 46 رہی جبکہ امن کمیٹی کے ارکان میں کوئی زخمی رپورٹ نہیں ہوا۔

رپورٹ کے مطابق اپریل میں ہونے والے زیادہ تر حملے کم شدت کے تھے تاہم بنوں میں دو خودکش حملے اور چاغی میں کان کنی کی تنصیب پر بڑا حملہ قابل ذکر رہا۔ خیبر پختونخوا بدستور سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ رہا جس کے بعد بلوچستان کا نمبر ہے۔

خیبر پختونخوا کے قبائلی اضلاع میں صورتحال میں سب سے زیادہ بہتری دیکھی گئی جہاں حملوں میں 40 فیصد اور ہلاکتوں میں 82 فیصد کمی آئی۔ اسی دوران سکیورٹی فورسز نے ان علاقوں میں کارروائیاں تیز کرتے ہوئے اپریل میں 120 دہشت گردوں کو ہلاک کیا جو کہ مارچ میں 24 تھی۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -