ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے قوم پر زور دیا ہے کہ وہ معاشی محاذ پر ڈٹ کر دشمنوں کو مایوس کرے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جاری کشیدگی اور طویل پابندیوں کے باعث پیدا ہونے والی صورتحال میں معاشی اور ثقافتی جہاد وقت کی اہم ضرورت ہے۔
ایک تحریری بیان میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ اسلامی جمہوریہ نے فوجی محاذ پر اپنی برتری اور ترقی کا لوہا دنیا کے سامنے منوایا ہے، اب معاشی میدان میں بھی دشمنوں کو شکست دینا ناگزیر ہے۔
سپریم لیڈر نے ملکی پیداوار کے استعمال کو ترجیح دینے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کاروباری مالکان سے اپیل کی کہ وہ موجودہ بحرانی کیفیت میں ممکنہ حد تک ملازمین کو ملازمتوں سے برطرف کرنے سے گریز کریں۔
مشرق وسطیٰ میں جنگ بندی کے باوجود امریکی فوج کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کے باعث تیل کی ترسیل شدید متاثر ہوئی ہے۔ قومی ادارہ شماریات کے مطابق حالیہ ہفتوں کے دوران افراط زر کی شرح پچاس فیصد سے تجاوز کر چکی ہے۔
کرنسی مارکیٹ کے اعداد و شمار کے مطابق ایرانی ریال ڈالر کے مقابلے میں اپنی تاریخ کی نچلی ترین سطح پر آ گیا ہے۔ محکمہ محنت کے حکام نے انکشاف کیا ہے کہ جنگی اثرات کے باعث ایک لاکھ اکیانوے ہزار افراد اپنی ملازمتوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں اور انہوں نے بے روزگاری الاؤنس کے لیے درخواستیں جمع کرائی ہیں۔
