اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو بین الاقوامی مالیاتی فنڈ سے ایک ارب 30 کروڑ ڈالر کی خطیر رقم موصول ہو گئی ہے۔ یہ رقم آئی ایم ایف کے توسیعی فنڈ سہولت اور لچک و پائیداری کی سہولت کے تحت جاری کی گئی ہے۔
مرکزی بینک کے مطابق آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ نے 8 مئی 2026 کو ہونے والے اجلاس میں توسیعی فنڈ سہولت کے تحت تیسرے جائزے کی تکمیل کی اور پاکستان کے لیے 760 ملین ایس ڈی آر کی منظوری دی تھی۔ اسی طرح بورڈ نے لچک و پائیداری کی سہولت کے تحت بھی 154 ملین ایس ڈی آر کی دوسری قسط کی منظوری دی ہے۔
اسٹیٹ بینک نے اپنے بیان میں واضح کیا ہے کہ 12 مئی 2026 کو مجموعی طور پر 914 ملین ایس ڈی آر موصول ہوئے ہیں جو تقریباً ایک ارب 30 کروڑ امریکی ڈالر کے مساوی ہیں۔ یہ رقم 15 مئی 2026 کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران مرکزی بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر میں شامل کر دی جائے گی۔
قبل ازیں آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ نے پاکستان کی جانب سے نئی شرائط تسلیم کرنے اور معاشی استحکام کے اہداف پر کاربند رہنے کی یقین دہانی کے بعد ایک ارب 20 کروڑ ڈالر کی قسطوں کی منظوری دی تھی۔ اس تازہ پیشرفت کے بعد پاکستان کو دو مختلف قرض پیکجز کے تحت اب تک مجموعی طور پر 4 ارب 50 کروڑ ڈالر موصول ہو چکے ہیں۔
سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ اس رقم کی دستیابی سے مرکزی بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر 17 ارب ڈالر سے تجاوز کر جائیں گے۔ تاہم حکومت کو ان معاشی اہداف پر قائم رہنے کے لیے سخت اقدامات کرنا پڑے ہیں، جنہیں اپنانے کے نتیجے میں ملک میں بے روزگاری، غربت اور آمدنی میں عدم مساوات بڑھنے کے خدشات کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے…
روس نے اپنے جوہری ہتھیاروں کو جدید بنانے کے عمل کو جاری رکھتے ہوئے منگل…
نیویارک میں ایک امریکی ٹرانسپیرنسی گروپ نے ایک عارضی نمائش کا اہتمام کیا ہے جس…
نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر نے ملک بھر میں 17 مئی تک موسمی صورتحال کے حوالے…
معروف امریکی کامیڈین کونن او برائن سال 2027 میں ہونے والی اکیڈمی ایوارڈز کی تقریب…
جنوبی چین کے شہر ژوہائی میں قائم ایک جدید ترین کارخانے نے امریکی صدر ڈونلڈ…