فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے اعلان کیا ہے کہ فرانس کا آئندہ ایٹمی طاقت سے چلنے والا طیارہ بردار بحری جہاز فرانس لیبرے کے نام سے موسوم ہوگا۔ یہ جدید ترین جنگی جہاز 2038 میں فرانسیسی بحریہ کا حصہ بنے گا اور موجودہ چارلس ڈیگال جہاز کی جگہ لے گا۔ یہ یورپ کی تاریخ کا سب سے بڑا جنگی جہاز ہوگا جس کی تعمیر پر 10 ارب یورو لاگت کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
صدر میکرون نے مغربی شہر انڈریٹ میں واقع شپ یارڈ کے دورے کے دوران بتایا کہ اس جہاز کا نام دوسری جنگ عظیم کے دوران نازی قبضے کے خلاف جنرل ڈیگال کی قیادت میں چلنے والی مزاحمتی تحریک کی یادگار کے طور پر رکھا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ نام ان مردوں اور خواتین کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتا ہے جنہوں نے بربریت کے خلاف آواز اٹھائی تھی۔
فرانسیسی صدر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ آزاد رہنے کے لیے فرانس کو طاقتور بننا ہوگا تاکہ دنیا میں اس کا رعب قائم رہے۔ انہوں نے زور دیا کہ موجودہ دور میں جب دنیا کو شکاریوں جیسے چیلنجز کا سامنا ہے، فرانس کو اپنی سمندری عسکری طاقت کو مزید مستحکم کرنا ہوگا۔
اس نئے جہاز کی لمبائی تقریباً 310 میٹر ہوگی اور اس کا وزن 80 ہزار ٹن کے قریب ہوگا۔ یہ جہاز 2 ہزار افراد کے عملے کے ساتھ 30 لڑاکا طیارے اور جدید جنگی ڈرون لے جانے کی صلاحیت کا حامل ہوگا۔ اس کے ڈھانچے کی تعمیر کا باقاعدہ آغاز 2031 میں سینٹ نازائر کی بندرگاہ پر ہوگا۔
فرانسیسی چیف آف نیول اسٹاف ایڈمرل نکولس ووجور کے مطابق یہ صرف ایک روایتی طیارہ بردار جہاز نہیں ہوگا بلکہ جدید ٹیکنالوجی کا شاہکار ہوگا۔ واضح رہے کہ امریکہ کے بعد فرانس دنیا کا واحد ملک ہے جو ایٹمی طاقت سے چلنے والے طیارہ بردار بحری جہازوں کا آپریشن کرتا ہے۔
موجودہ صورتحال میں جب آبنائے ہرمز میں عالمی تیل کی سپلائی متاثر ہے، فرانس اپنی سمندری حدود اور عالمی تجارت کے تحفظ کے لیے اپنی عسکری صلاحیتوں کو بڑھانے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔ تاہم صدر میکرون نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی فوجی کارروائی سے قبل کشیدگی میں کمی آنا ضروری ہے۔
