-Advertisement-

ایرانی صدر کی اسرائیلی جارحیت کے خلاف طیب اردوان کے مؤقف کی تعریف

تازہ ترین

سوشل میڈیا کمپنیوں کو نوجوانوں میں لت پیدا کرنے کا ذمہ دار قرار دے دیا گیا

لاس اینجلس کی عدالت نے ایک تاریخی فیصلے میں میٹا اور یوٹیوب کو نوجوان صارفین کے لیے نقصان دہ...
-Advertisement-

تہران میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے ترک صدر رجب طیب اردوان کی جانب سے صہیونی جارحیت کے خلاف اختیار کردہ دو ٹوک اور اصولی موقف کو سراہا ہے۔ سرکاری بیان میں ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ ترک قیادت کا عزم قابل ستائش ہے اور ترک قوم طویل عرصے سے عالم اسلام کے ساتھ یکجہتی کے اظہار میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ خدا کے فضل سے دونوں ممالک اس باوقار راستے پر مل کر آگے بڑھتے رہیں گے۔

یہ بیان ترک صدر رجب طیب اردوان کی جانب سے ایران میں امن کوششوں کی حمایت کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لانے کے اعلان کے ایک روز بعد سامنے آیا ہے۔ ترک صدر نے خبردار کیا کہ جاری تنازع پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے اور ان کی حکومت جنگ کے معاشی اثرات کو کم کرنے کے لیے ہنگامی اقدامات کر رہی ہے۔

خطے میں کشیدگی کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کو ایک امن منصوبہ پیش کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق تقریباً ایک ماہ سے جاری جنگ کو ختم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں جبکہ تہران نے اعلان کیا ہے کہ وہ غیر جارحانہ تیل بردار جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دے گا۔

اگرچہ سفارتی حل کے آثار نمایاں ہو رہے ہیں تاہم زمینی حقائق بدستور تشویشناک ہیں۔ حالیہ جھڑپوں کے دوران ایرانی میزائل حملے میں اسرائیلی حدود میں جانی نقصان کی اطلاعات ہیں جبکہ اسرائیل نے جنوبی لبنان کے سرحدی علاقوں پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی انتظامیہ ایران کے ساتھ مذاکرات کر رہی ہے تاہم تہران کی جانب سے ابھی تک کسی باضابطہ مذاکراتی عمل کی تصدیق نہیں کی گئی ہے۔ ٹرمپ کے بیانات میں تضاد برقرار ہے اور وہ کبھی ایران پر بڑے حملوں کی دھمکی دیتے ہیں تو کبھی جنگ کے خاتمے کا عندیہ دے رہے ہیں۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -