-Advertisement-

پوپ لیو کا ٹرمپ سے خوفزدہ نہ ہونے کا اعلان، جنگ کے خلاف اخلاقی موقف پر قائم

تازہ ترین

ٹرمپ اور ایرانی حکام کے بیانات امن معاہدے کی راہ میں رکاوٹ بن گئے

برطانوی اخبار دی گارڈین کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی حکام کے بیانات...
-Advertisement-

پوپ لیو چہار دہم نے پیر کے روز واضح کیا ہے کہ جنگ کے خلاف آواز اٹھانا ان کا اخلاقی فریضہ ہے اور وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے تنقیدی بیانات سے خوفزدہ نہیں ہیں۔ یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر نے مشرق وسطیٰ میں قیام امن کے لیے پوپ کی اپیلوں کو ہدف تنقید بنایا تھا۔ فروری کے اواخر میں ایران پر اسرائیل اور امریکا کے مشترکہ حملے کے بعد پیدا ہونے والی کشیدہ صورتحال پر پوپ کی جانب سے امن کی تلقین کو ٹرمپ نے غلط قرار دیا تھا۔

امریکی صدر نے اپنے موقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ انہیں پوپ کی تنقید پر معافی مانگنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ پوپ لیو ایران کے معاملے پر ان کی حکمت عملی کے خلاف ہیں، حالانکہ ایک ایٹمی ایران کسی صورت قابل قبول نہیں ہو سکتا۔ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ وہ پوپ لیو کے بڑے مداح نہیں ہیں اور ان پر خارجہ پالیسی میں کمزور ہونے کے الزامات بھی عائد کیے۔

الجزائر کے دورے پر روانگی سے قبل پوپ لیو نے طیارے میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ سیاست دان نہیں ہیں اور نہ ہی ان کا مقصد ٹرمپ انتظامیہ سے بحث کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چرچ کا مشن انجیل کی تعلیمات کے مطابق امن قائم کرنے والوں کے لیے دعا کرنا ہے اور جنگ کے خلاف واضح موقف اختیار کرنا چرچ کی اخلاقی ذمہ داری ہے۔

اطالوی وزیر اعظم جارجیا میلونی نے پوپ لیو کے خلاف امریکی صدر کی تنقید کو ناقابل قبول قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوپ کا امن کی بات کرنا اور جنگ کی ہر شکل کی مذمت کرنا ایک فطری اور درست عمل ہے۔

الجزائر پہنچنے پر پوپ لیو نے اپنی پہلی تقریر میں 1954 سے 1962 کے دوران فرانس سے آزادی کی جنگ کے متاثرین کو خراج تحسین پیش کیا اور مفاہمت پر زور دیا۔ یہ دورہ پوپ کے لیے ذاتی طور پر بھی انتہائی اہم ہے کیونکہ الجزائر سینٹ آگسٹین کا مسکن رہا ہے، جن کی روحانی تعلیمات پوپ لیو کے فکر کا بنیادی حصہ ہیں۔

اپنے دورے کے دوران پوپ لیو نے الجزائر کی عظیم مسجد اور باسیلیکا آف آور لیڈی آف افریقہ کا دورہ کیا۔ ان کا یہ افریقی دورہ 13 سے 23 اپریل تک جاری رہے گا جس میں وہ الجزائر کے علاوہ کیمرون، انگولا اور استوائی گنی کا بھی دورہ کریں گے۔ اس دوران وہ 18 ہزار کلومیٹر سے زائد کا سفر طے کریں گے۔

دوسری جانب ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے ٹرمپ کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری کردہ ایک مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ تصویر کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی ہے۔ واضح رہے کہ انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی پوپ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے دورے کے دوران الجزائر میں مذہبی اقلیتوں کے حقوق اور ان پر جاری دباؤ کا معاملہ بھی اٹھائیں۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -