-Advertisement-

ایران: احتجاج میں ملوث ایک خاتون سمیت مزید 4 افراد کو سزائے موت سنا دی گئی

تازہ ترین

برطانوی معیشت میں بہتری، تاہم مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی اور توانائی بحران سے نمٹنے کا چیلنج برقرار

برطانیہ کی معیشت نے فروری کے مہینے میں غیر متوقع طور پر ترقی کی رفتار پکڑی ہے جس سے...
-Advertisement-

ایرانی حکام کی جانب سے گزشتہ جنوری میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے سلسلے میں مزید چار افراد کو سزائے موت سنا دی گئی ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق ان چار افراد میں ایک خاتون بھی شامل ہے، جس سے اس طرح کی سزاؤں کا دائرہ کار مزید وسیع ہو گیا ہے۔

تہران کی انقلابی عدالت کے جج امام افشاری نے ان چاروں افراد کو امریکا کے ایما پر کارروائیاں کرنے کا مجرم قرار دیا ہے۔ سزا پانے والوں میں محمد رضا مجیدی اصل، ان کی اہلیہ بیتا ہمتی اور دو دیگر افراد بہروز زمانی نژاد اور کوروش زمانی نژاد شامل ہیں۔ بیتا ہمتی کو ان مظاہروں کے سلسلے میں سزائے موت پانے والی پہلی خاتون سمجھا جا رہا ہے۔

ایرانی عدلیہ نے ان افراد پر دھماکہ خیز مواد اور ہتھیاروں کے استعمال، سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنانے اور عمارتوں کی چھتوں سے آتش گیر مواد اور پتھر پھینکنے جیسے سنگین الزامات عائد کیے تھے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ تہران حکومت اسرائیل اور امریکا کے ساتھ جاری کشیدگی کے تناظر میں معاشرے میں خوف پھیلانے کے لیے سزائے موت کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔

ایران میں انسانی حقوق پر نظر رکھنے والی تنظیموں کا کہنا ہے کہ رواں سال کے پہلے تین ماہ کے دوران ایران میں 656 افراد کو پھانسی دی جا چکی ہے، جبکہ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔ پیر کے روز جاری ہونے والی ایک مشترکہ رپورٹ کے مطابق 2025 کے دوران ایران میں کم از کم 1639 افراد کو سزائے موت دی گئی، جن میں 48 خواتین بھی شامل تھیں۔

مختلف بین الاقوامی تنظیموں نے ان مقدمات کو غیر منصفانہ اور فوری سماعت کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملزمان کو وکیل تک رسائی نہیں دی گئی اور ان سے تشدد کے ذریعے اعترافی بیانات لیے گئے۔ نیشنل کونسل آف ریزسٹنس آف ایران نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سزائے موت پانے والے قیدیوں، بالخصوص سیاسی کارکنوں کی جان بچانے کے لیے فوری مداخلت کرے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -