-Advertisement-

امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور جلد متوقع، ترجمان دفتر خارجہ

تازہ ترین

ایران جنگ: برطانوی مسلح افواج کی کمزوری کھل کر سامنے آ گئی

لندن میں ایران جنگ کے اثرات اور برطانوی عسکری قوت میں نمایاں کمی نے وزیراعظم کیئر سٹارمر کی حکومت...
-Advertisement-

پاکستان کے دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور جلد متوقع ہے تاہم ابھی تک کسی حتمی تاریخ کا تعین نہیں کیا گیا ہے۔ اسلام آباد خطے میں قیام امن کے لیے اپنی مصالحتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ خطے میں جاری نازک جنگ بندی کو برقرار رکھا جا سکے۔

ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے اسلام آباد میں پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ پاکستان تمام متعلقہ فریقین کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور سفارتی عمل کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا اور ایران کے مابین مذاکرات کے دوسرے راؤنڈ کے لیے تاحال کوئی تاریخ طے نہیں ہوئی ہے۔

ترجمان نے کہا کہ لبنان میں جنگ بندی کا تسلسل خطے میں دیرپا امن کے لیے ناگزیر ہے اور موجودہ حالات میں لبنان دو ہفتوں پر محیط جنگ بندی کے معاہدے کا حصہ ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ لبنان میں امن کا قیام وسیع تر مذاکرات کی کامیابی کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔

طاہر اندرابی نے کہا کہ پاکستان کا پختہ یقین ہے کہ تنازعات کا حل صرف مذاکرات اور باہمی تعاون میں مضمر ہے۔ ان کا مقصد خطے کو جنگ کے سائے سے نکال کر استحکام کی جانب لے جانا ہے۔ ان کوششوں کے تحت سفارتی سرگرمیوں میں تیزی آئی ہے، جس کے پیش نظر آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر ایران کا دورہ کر رہے ہیں جبکہ وزیراعظم شہباز شریف تین ملکی دورے پر ہیں۔

ترجمان نے مزید کہا کہ سفارتی حلقوں میں پاکستان کے مثبت اور مصالحانہ کردار کو سراہا جا رہا ہے جو امن کے لیے اسلام آباد کے عزم کا عکاس ہے۔ گزشتہ ہفتے اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ امریکی اور ایرانی نمائندوں کے درمیان 21 گھنٹے طویل بات چیت ڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی موجودگی میں ہوئی تھی۔

دفتر خارجہ کے مطابق جاری ثالثی عمل میں کچھ پیش رفت ہوئی ہے تاہم ایران کے جوہری پروگرام سمیت دیگر اہم معاملات پر اختلافات اب بھی برقرار ہیں۔ قطر کے نشریاتی ادارے الجزیرہ نے ایک ایرانی عہدیدار کے حوالے سے بتایا ہے کہ آرمی چیف کے دورہ تہران سے کچھ معاملات میں خلیج کم کرنے اور جنگ بندی میں توسیع میں مدد ملی ہے جس سے مذاکرات کی بحالی کی امیدیں پیدا ہوئی ہیں۔

تاہم ایرانی عہدیدار نے واضح کیا کہ ایران کے پاس موجود افزودہ یورینیم کے مستقبل اور جوہری پروگرام پر پابندیوں کی مدت جیسے اہم امور پر اختلافات بدستور موجود ہیں اور ان پر اتفاق رائے تک پہنچنا ایک بڑا چیلنج ہے۔ پاکستان نے خود کو ایک سہولت کار کے طور پر پیش کیا ہے جس کا مقصد واشنگٹن اور تہران کے درمیان مسلسل رابطوں کے ذریعے علاقائی استحکام کو یقینی بنانا ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -