-Advertisement-

پنجاب میں آوارہ کتوں کو مارنے کے خلاف انسانی حقوق کی تنظیمیں اور جماعت اسلامی متحد

تازہ ترین

وفاقی حکومت کا سول سرونٹس کنڈکٹ رولز میں بڑی تبدیلیوں کا فیصلہ

وفاقی حکومت نے سول سرونٹس کے ضابطہ اخلاق میں بڑی تبدیلیاں متعارف کروا دی ہیں۔ وزیراعظم کی منظوری کے...
-Advertisement-

لاہور میں آوارہ کتوں کو بے دردی سے مارنے کے واقعات اور شہریوں پر کتے کے کاٹنے کے بڑھتے ہوئے حملوں کے خلاف جماعت اسلامی اور جانوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے مشترکہ مہم شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ فیصلہ لاہور میں منعقدہ ایک اہم اجلاس کے دوران کیا گیا جس میں ضلعی انتظامیہ سے روایتی ہتھکنڈے ترک کر کے سائنسی بنیادوں پر آبادی پر قابو پانے کا مطالبہ کیا گیا۔

اجلاس میں جماعت اسلامی لاہور کے امیر ضیاء الدین انصاری، پبلک ایڈ کمیٹی کے صدر قیصر شریف، ماحولیاتی اور جانوروں کے حقوق کے کنسلٹنٹس کے ایڈووکیٹ التمش سعید اور ایڈووکیٹ میاں احمد فاروق، ایل سی ڈبلیو یو کی ڈاکٹر آمنہ عبید خواجہ اور پنجاب پولیس اینیمل ریسکیو سینٹر کے ڈاکٹر بلال سمیت مختلف فلاحی تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔

اس موقع پر قیصر شریف نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ لاہور کے پوش علاقے عسکری 10 میں بھی دس سالہ بچہ کتے کے کاٹنے سے زخمی ہوا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ صرف 22 ماہ کے دوران کتے کے کاٹنے کے چار لاکھ 36 ہزار 408 واقعات رپورٹ ہوئے ہیں، جبکہ غیر رپورٹ شدہ اعداد و شمار اس سے کہیں زیادہ ہو سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت اس مسئلے کے حل میں سنجیدہ نہیں ہے۔

جماعت اسلامی لاہور کے امیر ضیاء الدین انصاری نے واضح کیا کہ آوارہ کتوں کو مارنا کسی بھی صورت پائیدار حل نہیں ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ جانوروں کو پکڑنے، ان کی نس بندی کرنے اور ویکسین لگا کر چھوڑنے کا سائنسی طریقہ کار زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔

اجلاس کے شرکاء نے جماعت اسلامی کے آٹھ نکاتی ایجنڈے کی مکمل تائید کی اور فیلڈ ورک سمیت تکنیکی معاونت فراہم کرنے کا یقین دلایا۔ شرکاء نے حکومت پر زور دیا کہ عوامی تحفظ اور جانوروں کے حقوق کے درمیان توازن قائم کرنے کے لیے تجاویز پر فوری عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -