-Advertisement-

میکسیکو: ماحولیاتی کارکن قاتلانہ حملے میں معجزانہ طور پر محفوظ، ویڈیو وائرل

تازہ ترین

ایران نے افزودہ یورینیم ہٹانے سمیت تمام شرائط مان لیں، ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ٹیلی فونک انٹرویو کے دوران دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے تمام شرائط...
-Advertisement-

میکسیکو میں ماحولیاتی کارکنوں کے لیے خطرات بڑھتے جا رہے ہیں اور سال 2025 کے دوران 10 سماجی کارکنوں کو قتل کر دیا گیا ہے۔ میکسیکن سینٹر فار انوائرمینٹل لاء کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ملک میں جنگلی حیات اور قدرتی وسائل کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے افراد کو شدید تشدد کا سامنا ہے۔

میکسیکو کے مغربی علاقے نایاریت میں جیگوار کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے کارکن ایرک ساراشو نے رواں سال 11 مارچ کو اپنے گھر پر ہونے والے قاتلانہ حملے کی ہولناک تفصیلات بیان کیں۔ جیگوار الائنس کے ڈائریکٹر نے بتایا کہ حملہ آور کے سامنے آتے ہی انہوں نے اسے صبح بخیر کہا جس پر اس نے پستول سے فائرنگ کر دی۔

ایرک ساراشو نے بتایا کہ حملہ ہونے کے بعد انہوں نے وفاقی حکومت کی جانب سے فراہم کردہ پینک بٹن دبایا، تاہم انہیں طبی امداد ملنے میں 25 منٹ کا طویل وقت لگا، جس کے بعد وہ معجزاتی طور پر زندہ بچ گئے۔ ریاستی استغاثہ نے حملے کی ویڈیو جاری کرتے ہوئے ملزمان کی گرفتاری کے لیے ایک لاکھ پیسو انعام کا اعلان کیا ہے۔

جیگوار الائنس نے اس حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے واقعے کی فوری، شفاف اور جامع تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ اپنے خطے کے قدرتی ورثے کے تحفظ کے لیے کوشاں کارکنوں کو نشانہ بنانا ایک ایسا تلخ حقیقت ہے جسے معاشرہ قبول نہیں کر سکتا۔

رپورٹ کے مطابق سال 2025 میں 10 ہلاکتوں کے علاوہ 135 بار کارکنوں کو دھمکانے، ان کی نگرانی کرنے، چوری اور بدنام کرنے جیسے واقعات پیش آئے۔ سیمڈا کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر گسٹاوو الانیس نے الزام عائد کیا کہ میکسیکو کی ریاستی مشینری ہی ماحولیاتی کارکنوں کے خلاف ہونے والے 56 فیصد سے زائد جارحانہ اقدامات میں ملوث ہے۔

تاہم رپورٹ میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ 10 ہلاکتوں کے ان واقعات میں براہ راست سرکاری اہلکاروں کے ملوث ہونے کے ثبوت نہیں ملے۔ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ایک دہائی کے دوران میکسیکو میں قدرتی وسائل کے دفاع کے لیے کام کرنے والے 199 ماحولیاتی کارکنوں کو قتل کیا جا چکا ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -