ترکی اور ایران کے درمیان قدرتی گیس کی درآمد کا طویل المدتی معاہدہ آئندہ چند ماہ میں ختم ہونے والا ہے تاہم دونوں ممالک کے درمیان اس کی توسیع کے حوالے سے تاحال کوئی باضابطہ مذاکرات شروع نہیں ہو سکے ہیں۔
ترکی کے وزیر توانائی الپارسلان بیرکتار نے انطالیہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ترکی کی توانائی کی ضروریات اور سپلائی کے تحفظ کے لیے ایرانی گیس پائپ لائن انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ فی الحال خطے کی موجودہ صورتحال اور اسرائیل ایران کشیدگی کے باعث مذاکرات کا عمل شروع نہیں کیا گیا ہے لیکن مستقبل میں اس معاہدے کی ممکنہ توسیع پر بات چیت کا امکان موجود ہے۔
موجودہ معاہدہ جولائی میں اپنی مدت پوری کر رہا ہے جس کے تحت ایران کو سالانہ نو اعشاریہ چھ ارب مکعب میٹر گیس فراہم کرنی تھی تاہم عملی طور پر فراہمی اس ہدف سے کم رہی ہے۔ گزشتہ برس ترکی نے ایران سے سات اعشاریہ چھ ارب مکعب میٹر گیس درآمد کی جو ترکی کی کل گیس درآمدات کا تیرہ فیصد بنتی ہے۔
ترکی اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے ذرائع کو متنوع بنانے پر بھی کام کر رہا ہے۔ وزیر توانائی نے بتایا کہ ترکی روس سے مائع قدرتی گیس یعنی ایل این جی کی درآمدات پر بھی غور کر رہا ہے۔ مقامی میڈیا کے مطابق ترک حکام نے سرکاری پائپ لائن آپریٹر بوٹاش کو روس سے ایل این جی درآمد کرنے کے لیے دس سالہ لائسنس جاری کیا ہے۔
وزیر توانائی نے اس بات کی وضاحت کی کہ فی الحال روس سے ایل این جی کی درآمد شروع نہیں کی گئی ہے۔ ترکی پہلے ہی بلیو اسٹریم اور ترک اسٹریم پائپ لائنوں کے ذریعے روس سے گیس درآمد کر رہا ہے جو ترکی کی کل گیس کی کھپت کا تقریباً پینتیس فیصد حصہ بنتی ہے۔
