-Advertisement-

مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوج کو خوراک کی قلت کا سامنا، اہلکاروں کے حوصلے پست ہونے کا خدشہ

تازہ ترین

ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی میں توسیع کے لیے پرامید ہیں: ترک وزیر خارجہ

ترکی نے ایران اور امریکہ کے درمیان جاری دو ہفتوں پر محیط جنگ بندی میں توسیع کے حوالے سے...
-Advertisement-

مشرق وسطیٰ میں تعینات امریکی بحری افواج کو خوراک کی شدید قلت کا سامنا ہے جس کے باعث اہلکاروں کے حوصلے پست ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ یو ایس اے ٹوڈے کی ایک رپورٹ کے مطابق اٹھائیس فروری کو ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں کے بعد خطے میں موجود امریکی جنگی جہازوں پر رسد کی صورتحال ابتر ہو چکی ہے۔

یو ایس ایس ٹریپولی پر تعینات ایک امریکی میرین نے اپنی کھانے کی ٹرے کی تصویر شیئر کی جس میں گوشت کے چھوٹے ٹکڑے اور ایک ٹارٹیلا موجود تھا۔ اسی طرح اپریل کے وسط میں یو ایس ایس ابراہم لنکن پر پیش کیے جانے والے کھانے کو غیر معیاری قرار دیا گیا جس میں سبزیوں اور پراسیس شدہ گوشت کی مقدار انتہائی کم تھی۔

رپورٹ کے مطابق ٹریپولی کے ملاحوں نے خوراک کی راشن بندی شروع کر دی ہے جبکہ تازہ سبزیوں اور پھلوں کی دستیابی مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے۔ اہلکاروں کے اہل خانہ نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مدد کے لیے سامان بھجوانے کی کوشش کی تاہم اپریل سے فوجی ڈاک سروس معطل ہونے کے باعث یہ پارسلز منزل تک نہیں پہنچ پا رہے۔

ایک امریکی بحری اہلکار نے پیغام میں خبردار کیا کہ سپلائی کی صورتحال مزید خراب ہو رہی ہے جس سے طویل تعیناتی کے دوران عملے کے حوصلے بری طرح متاثر ہوں گے۔ چینی عسکری تجزیہ کار سونگ ژونگ پنگ کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ امریکی فوج کسی طویل مہم کے لیے تیار نہیں تھی اور بنیادی خوراک کی کمی آپریشنل تیاریوں پر سوالیہ نشان ہے۔

یو ایس ایس ٹریپولی جاپان سے روانگی کے بعد سے ایک ماہ سے زائد عرصے سے سمندر میں موجود ہے جبکہ یو ایس ایس جیرالڈ فورڈ نے سرد جنگ کے بعد سب سے طویل تعیناتی کا ریکارڈ قائم کرتے ہوئے دو سو پچانوے دن سمندر میں گزارے ہیں۔ انٹرنیشنل بزنس ٹائمز سمیت دیگر عالمی نشریاتی اداروں نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ رسد کے نظام میں خلل اور خوراک کی قلت امریکی اہلکاروں کی فلاح و بہبود کے لیے سنگین خطرہ بن چکی ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ لاجسٹک مسائل اور طویل تعیناتی کا یہ سلسلہ امریکی فوج کی آپریشنل صلاحیتوں کو مزید متاثر کر سکتا ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -