-Advertisement-

جہلم: انجینئر محمد علی مرزا قاتلانہ حملے میں محفوظ، جوابی فائرنگ سے حملہ آور ہلاک

تازہ ترین

بھارت: پٹاخہ فیکٹری میں آتشزدگی سے 20 افراد ہلاک

جنوبی بھارت کی ریاست تامل ناڈو کے ضلع ویرودھونگر میں واقع پٹاخہ فیکٹری میں خوفناک دھماکے کے نتیجے میں...
-Advertisement-

جہلم میں قرآن و سنت ریسرچ اکیڈمی کے باہر مذہبی اسکالر انجینئر محمد علی مرزا پر قاتلانہ حملہ ہوا ہے جس میں وہ معجزانہ طور پر محفوظ رہے ہیں۔ پولیس کی جوابی کارروائی میں حملہ آور ہلاک جبکہ ایک پولیس اہلکار زخمی ہو گیا ہے۔

پولیس ترجمان کاشف کیانی کے مطابق واقعہ اس وقت پیش آیا جب انجینئر محمد علی مرزا ریسرچ اکیڈمی کے باہر موجود تھے۔ ایک مسلح شخص نے احاطے میں داخل ہو کر نو ایم ایم پستول سے فائرنگ شروع کر دی۔

حملے کے دوران سیکیورٹی پر مامور کانسٹیبل گولی لگنے سے زخمی ہوا جس کے پاؤں میں گولی لگی۔ زخمی اہلکار کو فوری طور پر ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرز ہسپتال منتقل کر دیا گیا جہاں ڈاکٹروں کے مطابق وہ خطرے سے باہر ہے۔

ایس ایس پی چوہدری شفیق نے تصدیق کی ہے کہ پولیس کی جوابی فائرنگ سے حملہ آور موقع پر ہی مارا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ انجینئر محمد علی مرزا مکمل طور پر محفوظ ہیں جبکہ واقعے کے وقت سیکیورٹی کے انتظامات موجود تھے جنہیں مزید سخت کیا جا رہا ہے۔ پولیس حملہ آور کی شناخت کے لیے نادرا سے مدد لے رہی ہے۔

یہ واقعہ سٹی تھانہ جہلم کی حدود میں پیش آیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم نے اس وقت فائرنگ کی جب اہلکاروں نے اسے روکنے کی کوشش کی۔

یاد رہے کہ گزشتہ برس دسمبر میں لاہور ہائی کورٹ کے راولپنڈی بنچ نے مذہبی منافرت کے الزام میں درج مقدمے میں انجینئر محمد علی مرزا کی ضمانت منظور کی تھی۔ جسٹس صداقت علی خان نے پانچ پانچ لاکھ روپے کے دو مچلکوں کے عوض ضمانت کا حکم دیا تھا۔

یہ مقدمہ ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ نے مذہبی شخصیات کی توہین کے الزام میں درج کیا تھا۔ انجینئر محمد علی مرزا کو پہلی بار اگست میں جہلم پولیس نے مینٹیننس آف پبلک آرڈر کے سیکشن تین کے تحت حراست میں لیا تھا اور بعد ازاں توہین مذہب کا مقدمہ درج ہونے پر انہیں ایف آئی اے کے حوالے کر دیا گیا تھا۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -