فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر عاطف اکرام شیخ نے سعودی عرب کی جانب سے اسٹیٹ بینک آف پاکستان میں تین ارب ڈالر کی نئی ڈیپازٹ اور پانچ ارب ڈالر کی موجودہ سہولت کو دو ہزار اٹھائیس تک توسیع دینے کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔
واشنگٹن میں عالمی بینک اور آئی ایم ایف کے موسم بہار کے اجلاسوں کے موقع پر وزیر خزانہ کی جانب سے کیے گئے اس اعلان کو عاطف اکرام شیخ نے ملکی معاشی استحکام کے لیے ایک بڑی کامیابی قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پانچ ارب ڈالر کی سہولت کے لیے سالانہ رول اوور کی شرط کا خاتمہ اور تین ارب ڈالر کی نئی رقم ملکی معاشی منصوبہ بندی میں غیر معمولی پیش گوئی اور اعتماد پیدا کرے گی۔
ایف پی سی سی آئی کے صدر کے مطابق اس تزویراتی مالی معاونت سے زرمبادلہ کے ذخائر میں نمایاں اضافہ ہوگا جو موجودہ جغرافیائی و معاشی صورتحال میں انتہائی ناگزیر ہے۔ یہ اقدام حکومت کو مالی سال چھبیس کے اختتام تک اٹھارہ ارب ڈالر کے ذخائر کے ہدف تک پہنچنے میں مدد دے گا جس سے ملک کو تین ماہ سے زائد کا درآمدی کور حاصل ہو سکے گا۔
عاطف اکرام شیخ نے مزید کہا کہ ذخائر میں اضافے سے پاکستانی روپے پر دباؤ کم ہوگا اور افراط زر پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔ زر مبادلہ کی شرح میں استحکام سے درآمدی مہنگائی میں کمی آئے گی جس سے کاروباری لاگت کم ہوگی اور عوام کو ریلیف ملے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے کاروباری برادری اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوگا کیونکہ معاشی یقینیت ہی صنعت و تجارت کی ترقی کی بنیاد ہے۔ بیرونی فنانسنگ کے حصول اور پانچ ارب ڈالر کی سہولت کی مدت میں توسیع سے ادائیگیوں کے توازن کے خطرات اور نقد رقم کی قلت کا بحران ٹل گیا ہے۔
صدر ایف پی سی سی آئی نے وضاحت کی کہ اس اعتماد سے ملکی صنعتی توسیع اور براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا۔ اس کے علاوہ اسٹیٹ بینک اب لیٹرز آف کریڈٹ کی بروقت کلیئرنس کو یقینی بنا سکے گا جس سے خام مال، مشینری اور پیٹرولیم مصنوعات کی فراہمی مسلسل رہے گی اور برآمدی نمو کو فروغ ملے گا۔
عاطف اکرام شیخ نے سعودی عرب کو پاکستان کا ہر موسم کا ساتھی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ تعاون پالیسی سازوں کو طویل مدتی ساختی اصلاحات کے لیے ضروری وقت فراہم کرے گا۔ انہوں نے خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے وزیراعظم، وزیر خزانہ اور گورنر اسٹیٹ بینک کی کامیاب سفارتی و مالی کوششوں کو سراہا۔
ایف پی سی سی آئی نے حکومت کے ساتھ مل کر کام کرنے کے عزم کا اعادہ کیا تاکہ اس معاشی استحکام کو صنعتی ترقی، ملازمتوں کے مواقع اور پاکستان و سعودی عرب کے مابین دوطرفہ تجارت کے فروغ میں تبدیل کیا جا سکے۔
