اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان کے رہائشیوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ ایک مخصوص حد سے آگے جنوب کی جانب پیش قدمی نہ کریں اور دریائے لیتانی کے قریبی علاقوں سے دور رہیں۔ اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ جنگ بندی کے باوجود حزب اللہ کی ممکنہ کارروائیوں کے پیش نظر ان کی دستے ان علاقوں میں بدستور تعینات ہیں۔
اسرائیلی فوج کے ترجمان اویچائی ادرعی نے ایک بیان میں شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ حفاظتی خدشات کے باعث تاحکم ثانی سرحدی دیہاتوں میں واپس نہ جائیں۔
ادھر اسرائیلی گولہ باری اور سرحد کے قریب گھروں کی مسماری کے باوجود ہزاروں بے گھر لبنانی خاندانوں نے اپنے آبائی علاقوں کی جانب واپسی شروع کر دی ہے۔ ہفتے کے روز گاڑیوں کا ایک طویل سلسلہ نظر آیا جن میں سامان لادے خاندان اپنے گھروں کی حالت دیکھنے کے لیے جنوب کا رخ کر رہے تھے۔
یہ واپسی دس روزہ جنگ بندی کے بعد شروع ہوئی ہے تاہم لبنانی فوج نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ فی الحال گھروں کو واپسی ملتوی کر دیں، جبکہ حزب اللہ نے خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیل نے معاہدے کی خلاف ورزی کی تو ان کی انگلیاں ٹریگر پر ہوں گی۔
واپسی کرنے والے متعدد افراد کو اپنے گھر مکمل طور پر تباہ یا ناقابل رہائش ملے جس سے ان میں شدید تشویش پائی جاتی ہے کہ یہ نازک جنگ بندی کسی بھی وقت ختم ہو سکتی ہے۔
اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے اتوار کے روز ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فوج کو جنگ بندی کے دوران بھی بھرپور طاقت استعمال کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ کاٹز کے مطابق وزیر اعظم نیتن یاہو اور انہوں نے اسرائیلی ڈیفنس فورسز کو حکم دیا ہے کہ وہ زمینی اور فضائی طور پر مکمل طاقت کا مظاہرہ کریں تاکہ لبنان میں موجود اسرائیلی فوجیوں کو کسی بھی خطرے سے محفوظ رکھا جا سکے۔
اسرائیلی وزیر دفاع نے مزید کہا کہ فوج کو ان سرحدی دیہاتوں میں موجود گھروں کو ہٹانے کا حکم بھی دیا گیا ہے جو ان کے بقول حزب اللہ کے ٹھکانوں کے طور پر استعمال ہوتے تھے اور اسرائیلی آبادیوں کے لیے خطرہ تھے۔
