ملائیشیا کے جزیرے بورنیو پر واقع ساحلی بستی میں ہولناک آتشزدگی کے نتیجے میں تقریباً ایک ہزار مکانات خاکستر ہو گئے، جس کے باعث نو ہزار سے زائد افراد بے گھر ہو کر رہ گئے ہیں۔ حکام کے مطابق یہ واقعہ اتوار کی صبح سینڈاکن کے علاقے میں پیش آیا۔
فائر اینڈ ریسکیو ڈیپارٹمنٹ کا کہنا ہے کہ آگ سمندر کے اوپر لکڑی کے ستونوں پر قائم مکانات میں لگی اور تیز ہواؤں کے باعث تیزی سے پھیل گئی۔ تنگ راستوں اور کم پانی کی سطح کے باعث امدادی ٹیموں کو آگ بجھانے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
خوش قسمتی سے اس حادثے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔ تاہم ہزاروں متاثرین کو فوری طور پر عارضی پناہ گاہوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ یہ بستیاں، جو پانی کے اوپر تعمیر کی گئی ہیں، سباہ کے غریب ترین علاقوں میں شمار ہوتی ہیں جہاں مکانات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے اور آتش گیر مواد سے بنے ہیں۔
مقامی ویلج ہیڈ شریف ہاشم شریف ایٹنگ کے حوالے سے میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ آگ مبینہ طور پر کھانا پکانے کے دوران لگی جو بے قابو ہو گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ آگ لگنے کی حتمی وجوہات کا تعین کرنے کے لیے تفتیش جاری ہے۔
ملائیشیا کے وزیراعظم انور ابراہیم نے کہا ہے کہ وفاقی اور ریاستی ادارے امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں اور متاثرہ خاندانوں کو فوری ریلیف کی فراہمی اولین ترجیح ہے۔ سباہ میں پانی پر قائم ایسی بستیوں میں آگ لگنے کے واقعات ماضی میں بھی پیش آتے رہے ہیں، تاہم ان کچی آبادیوں میں حفاظتی انتظامات کو بہتر بنانا حکام کے لیے ایک بڑا چیلنج بنا ہوا ہے۔
