-Advertisement-

صدر مملکت کا قومی زندگی میں اقبال کے افکار کی عملی ترویج پر زور

تازہ ترین

ریڈ زون کی بندش: وفاقی آئینی عدالت اور اسلام آباد ہائی کورٹ آج بند رہیں گی

اسلام آباد میں ریڈ زون کی بندش کے باعث وفاقی آئینی عدالت اور اسلام آباد ہائی کورٹ آج منگل...
-Advertisement-

صدر مملکت آصف علی زرداری نے علامہ محمد اقبال کے افکار کو قومی زندگی اور عوامی کردار کا حصہ بنانے پر زور دیا ہے۔ اقبال ڈے کے موقع پر اپنے پیغام میں صدر مملکت نے کہا کہ شاعر مشرق کے فلسفے کی اصل افادیت اسے ایک منصفانہ اور متوازن معاشرے کی تعمیر میں بروئے کار لانے میں مضمر ہے۔

صدر زرداری نے کہا کہ علامہ اقبال محض ایک شاعر نہیں بلکہ ایک ایسی فکری اور روحانی قوت تھے جنہوں نے امت مسلمہ کو خود آگاہی، فکر کی آزادی اور خود داری کا راستہ دکھایا۔ انہوں نے کہا کہ زوال اور بے یقینی کے دور میں علامہ اقبال نے قوم میں عمل اور امکانات پر یقین کو دوبارہ بیدار کیا۔

صدر مملکت کا کہنا تھا کہ اقبال کے افکار میں مشرق و مغرب کی روایات کا گہرا امتزاج پایا جاتا ہے۔ ان کا وژن انصاف، وقار اور انسانی صلاحیتوں پر مبنی ایک ترقی پسند معاشرے کا عکاس ہے۔ انہوں نے معاشی اور سماجی انصاف پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اقبال کا یہ پیغام آج بھی ایک مستحکم اور انسانی اقدار کے حامل نظام کے قیام کے لیے مشعل راہ ہے۔

موجودہ عالمی تناظر کا ذکر کرتے ہوئے صدر مملکت نے کہا کہ دنیا آج تنازعات اور تقسیم کا شکار ہے، ایسے میں علامہ اقبال کا یہ درس کہ نفرت پر محبت، جبر پر انصاف اور مایوسی پر امید کو فوقیت دی جائے، انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے علامہ اقبال کا شعر نقل کیا کہ آدمیت احترامِ آدمی، باخبر شو از مقامِ آدمی۔

صدر نے اس بات پر زور دیا کہ اقبال کا پیغام معاشرے کے ہر طبقے کے لیے ہے۔ نوجوانوں کے لیے انہوں نے عزم اور نظم و ضبط، خواتین کے لیے باوقار کردار اور طلبہ کے لیے علم کو کردار سازی سے جوڑنے کا درس دیا۔ ان کے نزدیک خودی کا تصور فرد کو ذمہ داری اور اعتماد کے ساتھ عمل کرنے کے قابل بناتا ہے۔

صدر مملکت نے کہا کہ علامہ اقبال تعلیم کو محض روزگار کا ذریعہ نہیں بلکہ فکری اور اخلاقی تشکیل کا وسیلہ سمجھتے تھے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ علم، کردار سازی اور مہارتوں کو معاشرے کی خدمت کے لیے استعمال کرنا ہی ایک مستحکم اور خود انحصار پاکستان کی تعمیر کی ضمانت ہے۔

اپنے پیغام کے آخر میں صدر مملکت نے علامہ اقبال کا یہ شعر دہرایا کہ جہاں تازہ کی افکارِ تازہ سے ہے نمود، کہ سنگ و خشت سے ہوتے نہیں جہاں پیدا۔ انہوں نے کہا کہ اقبال کا فکری قد و کاٹھ پاکستان سے باہر بھی تسلیم کیا جاتا ہے اور ان کی شاعری انسانیت کے لیے ایک ابدی پیغام ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -